یونیسکو کی عارضی عالمی ورثہ فہرست میں 12 نئے فلسطینی مقامات شامل

IQNA

یونیسکو کی عارضی عالمی ورثہ فہرست میں 12 نئے فلسطینی مقامات شامل

7:55 - July 18, 2026
خبر کا کوڈ: 3520463
ایکنا: فلسطینی حکام کے مطابق 12 نئے تاریخی اور ثقافتی مقامات کو اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (UNESCO) کی عارضی عالمی ورثہ فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے، اسرائیلی اقدامات کے خلاف یہ فیصلہ ان کی مزید شناخت میں موثر ہوگا۔

ایکنا نیوز- أخبار الغد کے حوالے سے فلسطین کی وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ 12 نئے مقامات کے اندراج کے بعد یونسکو کی عارضی عالمی ورثہ فہرست میں شامل فلسطینی مقامات کی مجموعی تعداد 23 ہو گئی ہے۔

وزارت نے بتایا کہ یہ اندراج یونسکو میں فلسطین کے مستقل مشن کے تعاون سے کیا گیا ہے، جس کا مقصد فلسطینی ثقافتی و قدرتی ورثے کی بین الاقوامی سطح پر موجودگی کو مضبوط بنانا اور اس کے تاریخی و ثقافتی تنوع کو اجاگر کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ عارضی فہرست میں شامل ہونا عالمی ورثہ کی مستقل فہرست کے لیے نامزدگی کا ابتدائی مرحلہ ہے، جو ان مقامات کے تحفظ، نگہداشت اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔

وزارت نے مزید کہا کہ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی تاریخی اور ثقافتی مقامات کے خلاف کارروائیوں میں شدت آ رہی ہے۔ اس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطینی ثقافتی ورثے کو دستاویزی شکل دینا، اس کا تحفظ کرنا اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا اس کی اولین ترجیح ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے میں آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے مقامات اسرائیلی اقدامات، زمینی سرگرمیوں اور تاریخی اہمیت کے حامل علاقوں پر انتظامی کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کے باعث مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔

وزارت نے نئے شامل کیے گئے اہم مقامات میں شمالی مغربی کنارے کا قدیم شہر سبسطیہ، بیت لحم کے جنوب میں واقع سلیمان کے حوض اور الخلیل کی مسجدِ ابراہیمی کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔

رپورٹ کے مطابق، حالیہ مہینوں میں ان مقامات پر ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جن کا مقصد انہیں ان کے فلسطینی ماحول سے الگ کرنا اور ان پر اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکومت کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ خزانہ بیزلیل اسموتریچ نے گزشتہ ماہ مسجدِ ابراہیمی کے اطراف منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی طرح اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) ایک ایسے مجوزہ قانون پر غور کر رہی ہے جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے آثارِ قدیمہ کے مقامات کے انتظام میں اسرائیلی حکام کو مزید اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نہ صرف آثارِ قدیمہ اور تاریخی مقامات کے خلاف اپنی کارروائیاں بڑھا رہا ہے بلکہ فلسطینیوں کے خلاف قتل، گرفتاری، جبری بے دخلی، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی مسماری اور زرعی اراضی کی تباہی جیسے اقدامات میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ فلسطینی حکام کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے کے باضابطہ الحاق کی راہ ہموار کرنا ہے، جس سے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات مزید کمزور ہو سکتے ہیں۔

.

4364493

نظرات بینندگان
captcha