جدہ کے عجائب گھر میں قرآنی نادر خطاطی فن پاروں کی نمائش

IQNA

جدہ کے عجائب گھر میں قرآنی نادر خطاطی فن پاروں کی نمائش

7:46 - July 20, 2026
خبر کا کوڈ: 3520474
1
ایکنا: جدہ کے تاریخی علاقے میں واقع بحر الاحمر میوزیم کے ہال "بحر الایمان" میں قرآن کریم کی تمام سورتوں پر مشتمل ایک نادر خطاطی کا شاہکار نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے، جو اپنی منفرد فنکارانہ خصوصیات کے باعث زائرین کی خصوصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

ایکنا نیوز- اسلاو دی نیوزکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نادر فن پارے میں مسجد الحرام کا ایک نہایت تفصیلی خاکہ پیش کیا گیا ہے، جس کے مختلف حصوں میں قرآن کریم کی تمام سورتیں انتہائی باریک اور نفیس خطاطی کے ساتھ تحریر کی گئی ہیں۔ یہ شاہکار خوشنویسی کی دقت، قرآنی متن کی روحانیت اور بصری حسن کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔

یہ قرآنی مخطوطہ بحیرۂ احمر کے راستے مکہ مکرمہ جانے والے حجاج کے سفر کی ایک جھلک بھی بیان کرتا ہے۔ اس میں قرآن کریم کی عظمت، اسلامی فنِ خطاطی کی خوبصورتی اور مسجد الحرام کی منظرکشی کو اس انداز سے یکجا کیا گیا ہے کہ یہ اسلامی فن اور تاریخی حج کے راستوں کے باہمی تعلق کی ایک منفرد مثال بن گیا ہے۔

یہ نادر شاہکار ہندوستان کے شہر میسور میں تقریباً 1859 تا 1860ء کے دوران معروف خطاط غوث محبوب غالب نے تخلیق کیا تھا۔ یہ نسخہ موٹے کاغذ پر خطِ دیوانی میں سیاہ روشنائی اور سنہری تذہیب کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے، جبکہ اس کے وسط میں دائرہ نما ترکیب میں خانۂ کعبہ کی تصویر نمایاں ہے، جس میں مسجد الحرام کی تاریخی عمارتوں اور معماری کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

اس فن پارے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ قرآن کریم کی تمام سورتوں کو انتہائی باریک اور نہایت دقیق خط میں پورے نقشے کے مختلف حصوں میں سمو دیا گیا ہے۔

قرآنی متن کا آغاز اوپری حصے میں سورۂ فاتحہ سے ہوتا ہے اور اختتام سورۂ ناس پر ہوتا ہے۔ یہ شاہکار مسلمان خطاطوں کی غیرمعمولی مہارت، صبر اور فنِ کتابتِ قرآن میں اعلیٰ درجے کی باریک بینی کا مظہر ہے۔

اس کی بصری ترتیب بھی اس کی فنی اہمیت میں اضافہ کرتی ہے۔ نقشے کے مرکز میں خانۂ کعبہ کو نمایاں کیا گیا ہے، جبکہ اس کے گرد مسجد الحرام کی تاریخی عمارتیں دکھائی گئی ہیں۔ دوسری جانب قرآنی آیات اور سورتیں تزئینی نقوش اور معماری کے عناصر کے ساتھ اس مہارت سے ہم آہنگ کی گئی ہیں کہ متن اور تصویر ایک دلکش اور روح پرور منظر پیش کرتے ہیں۔

اس مخطوطے کی اہمیت صرف اس کے فنی حسن تک محدود نہیں بلکہ یہ ان حجاج کے ثقافتی ورثے کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو بحیرۂ احمر کے راستے مقدس سرزمینوں کا سفر کرتے ہوئے ایسے قیمتی قرآنی نسخے اپنے ساتھ رکھتے تھے۔

یہ نادر شاہکار حرمین شریفین سے مسلمانوں کی محبت اور عقیدت کی علامت بھی ہے اور اس بات کا گواہ ہے کہ بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں کے ذریعے اسلامی فنون مختلف خطوں تک کیسے منتقل ہوئے۔

"بحر الایمان" ہال میں اس نادر فن پارے کو قرآن کریم کے دیگر قدیم مخطوطات، نایاب نسخوں اور حج کے تاریخی سفر سے متعلق نوادرات کے ساتھ نمائش کے لیے رکھا گیا ہے، جہاں یہ بحیرۂ احمر کے راستے مکہ مکرمہ جانے والے زائرین کے ثقافتی ورثے اور ان کے روحانی سفر کی خوبصورت داستان بیان کرتا ہے۔/

 

4364687

نظرات بینندگان
captcha