ایکنا: وزارتِ اوقاف کے اعلان کے مطابق موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران ملک کے قرآنی مراکز میں شریک طلبہ و طالبات کی تعداد ۲ لاکھ ۵۰ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
ایکنا نیوز- alwakaai.com نیوز کے مطابق اردن کے وزیرِ اوقاف محمد الخلایِلہ نے اس حوالے سے کہا کہ یہ مراکز صرف قرآن کریم حفظ کرنے کے روایتی مراکز نہیں، بلکہ ایک جامع تربیتی ماحول میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس کا مقصد طلبہ کی شخصیت کو نکھارنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان مراکز میں پیش کیے جانے والے پروگراموں میں آگاہی اور اخلاقی اقدار پر مبنی سرگرمیاں شامل ہیں، جن کا مقصد طلبہ کو قرآن کے طرزِ فکر سے زندگی کے ایک مکمل طریقۂ کار اور روزمرہ کے رویے کے طور پر جوڑنا ہے، تاکہ قرآن کی تعلیم محض تلقین اور حفظ تک محدود نہ رہے۔
اردن کے وزیرِ اوقاف نے اس بات پر زور دیا کہ دیہات اور شہروں میں ان مراکز کے وسیع پیمانے پر قیام سے ہزاروں خاندانوں کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے معیاری پروگراموں میں داخل کرائیں جن میں دینی علم اور عملی زندگی کی مہارتوں کو یکجا کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے اس وسیع پیمانے پر پذیرائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ معاشرہ ان مراکز کے تربیتی کردار پر اعتماد کرتا ہے۔ یہ مراکز طلبہ کے فارغ اوقات کو مفید انداز میں گزارنے اور ان میں سماجی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
قرآنی اقدار کو عملی سماجی رویوں میں تبدیل کرنا
الخلایِلہ نے واضح کیا کہ بنیادی مقصد صرف قرآن کریم کے مختلف اجزا حفظ کرانے تک محدود نہیں، بلکہ شرکا کی شخصیت میں امانت داری، سچائی، دوسروں کے احترام اور اجتماعی تعاون جیسی اقدار کو مضبوط کرنا بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قرآنی مراکز میں ہونے والی تعاملی سرگرمیاں نوجوان نسل میں پہل کرنے کے جذبے اور احساسِ ذمہ داری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔/
4371093