ایکنا: متحدہ عرب امارات کی عظیم الشان جامع مسجد شیخ زاید کے شاندار فنِ تعمیر کے قلب میں روشنی محض روشن کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ حقیقت اور آسمانی نشانیوں کو بیان کرنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔
ایکنا نیوز- صحیفہ الخلیج کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ جامع مسجد شیخ زاید مرکز "چاند کی بھی ایک کہانی ہے... جسے روشنی بیان کرتی ہے" کے عنوان سے ایک منفرد لائٹ شو پیش کر رہا ہے۔ یہ ایک جدید اور بصری تجربہ ہے جو چاند کے مختلف مراحل سے متاثر ہے۔ اس نمائش میں متحدہ عرب امارات کے ہجری تقویم کی درستگی کو اجاگر کیا گیا ہے، جسے اسی مرکز نے مرتب کیا ہے۔ یہ اقدام مسجد آنے والے افراد کے تجربے کو بصری فنون کے ذریعے مزید بہتر بنانے اور انہیں اسلامی تہذیبی و ثقافتی ورثے سے جوڑنے کی کوششوں کا عکاس ہے۔
اس تجربے میں روشنیوں کے ذریعے چاند اور اس کے مختلف مراحل کی داستان بیان کی جاتی ہے۔ یہ بصری منظر مسجد کے منفرد طرزِ تعمیر کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور فلکیاتی حرکات اور ہجری تقویم کے درمیان گہرے تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ تقویم مذکورہ مرکز ہر سال اعلیٰ ترین سائنسی معیار کے مطابق مرتب اور شائع کرتا ہے، جس سے فلکیاتی حسابات پر مبنی ایک سائنسی مرجع کی حیثیت سے اس کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔
قرآنی اہمیت
یہ بصری نمائش قرآن کریم کی اس آیتِ مبارکہ کے مفہوم کی عملی تصویر پیش کرتی ہے:
﴿هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ﴾
وہی ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو نور بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور وقت کا حساب معلوم کر سکو۔ اللہ نے یہ سب کچھ برحق پیدا کیا ہے۔ وہ ان لوگوں کے لیے اپنی نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے جو علم رکھتے ہیں۔
یہ فن پارہ چاند کے مختلف مراحل، وقت کی پیمائش اور ہجری تقویم کے درمیان تعلق کو نمایاں کرتا ہے اور قرآنی مفاہیم کو روشنی پر مبنی ایک جدید تجربے میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ ایسا تجربہ ہے جس میں بصری حسن کو سائنسی علم کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے اور یوں وقت کے مشاہدے اور حساب کے میدان میں اسلامی تہذیب کے کردار کے ایک پہلو کی عکاسی ہوتی ہے۔
یہ لائٹ شو مسجد میں چاند کے مکمل چکر پر مبنی روشنیوں کے تجربے کو، جو دراصل ایک مکمل قمری ماہ پر محیط ہوتا ہے، پانچ منٹ کے بصری سفر میں سمیٹ دیتا ہے۔ اس دوران روشنی کا رنگ گہرے نیلے سے شروع ہوتا ہے، جو قمری ماہ کے آغاز اور ہلال کے ظہور کی علامت ہے۔ اس کے بعد روشنی بتدریج زیادہ روشن ہوتی جاتی ہے اور نیلے رنگ کی شدت کم ہوتی جاتی ہے، یہاں تک کہ ماہِ کامل یعنی بدر کے وقت روشنی سفید رنگ اختیار کرلیتی ہے۔ اس کے بعد روشنی دوبارہ بتدریج گہرے نیلے رنگ میں تبدیل ہوجاتی ہے، جو قمری ماہ کے اختتام اور ایک نئے چکر کے آغاز کی علامت ہے۔
جامع مسجد شیخ زاید کی چاندنی نما روشنیوں کا یہ منفرد نظام ایک ’’قمری گھڑی‘‘ سے منسلک ہے۔ یہ نظام پورے قمری ماہ کے دوران مسجد کی بیرونی دیواروں پر پڑنے والی روشنی کی شدت کو ہر دو روز بعد تبدیل کرتا ہے، تاکہ چاند کے مختلف مراحل میں اس کی حقیقی روشنی کی مقدار کی عکاسی کی جاسکے۔
840 سے زائد روشنیاں
یہ نظام محض جمالیاتی حسن تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایک تہذیبی اور ثقافتی پہلو بھی موجود ہے۔ یہ اسلامی تہذیب کے قمری چکر کے ساتھ تعلق کی عکاسی کرتا ہے، جو مہینوں اور ہجری تقویم کے حساب کی بنیاد ہے۔ اس طرح یہ ایک ایسے مشترکہ عنصر کو اجاگر کرتا ہے جو دنیا کی متعدد ثقافتوں اور تہذیبوں میں پایا جاتا ہے۔
قمری روشنی کا یہ نظام مسجد کے اطراف نصب 840 سے زائد روشنیوں کے ذریعے کام کرتا ہے، جو مسجد کی دیواروں پر انتہائی درست اور یکساں روشنی کی شعاعیں ڈالتے ہیں۔ اس کے علاوہ اطراف میں موجود 22 روشن مینار نما ٹاورز روشنی کے نقش و نگار اور بادلوں کے درمیان بصری ہم آہنگی کو نمایاں کرتے ہیں، مسجد کے منفرد طرزِ تعمیر کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں اور زائرین کو ایک غیر معمولی بصری تجربہ فراہم کرتے ہیں۔
یہ پروگرام ہر ہجری ماہ کے آغاز میں پیش کیا جاتا ہے۔ پانچ منٹ کی ہر نمائش مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مہمانوں کو ایسے بصری منظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے جو نئے ہجری ماہ کے آغاز کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے اور ایک منفرد فنکارانہ انداز میں روشنی کے حسن اور ہجری وقت کی روانی کو اجاگر کرتا ہے۔/
4369898