شام میں جاری جنگ کسی عنوان سے جہاد شمار نہیں ہوتی : تیونس کے مفتی

IQNA

شام میں جاری جنگ کسی عنوان سے جہاد شمار نہیں ہوتی : تیونس کے مفتی

12:31 - October 23, 2013
خبر کا کوڈ: 1348
بین الاقوامی گروپ : گزشتہ روز ۱۹ اپریل کو تیونس کے مفتی اعظم شیخ عثمان بطیخ نے ایک بار پھر تیونسی جوانوں کی جانب سے شامی حکومت اور عوام کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں میں مصروف باغی گروپوں میں شمولیت کی پرزور مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا : اس وقت حقیقی جہاد صرف فلسطین میں جاری ہے ۔


ایران کی قرآنی خبر رساں ایجنسی ﴿ایکنا﴾ نے اطلاع رساں ویب سائیٹ «leconomistemaghrebin»، کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے کہاہے کہ تیونس کے مفتی نے پریس کانفرنس کے دوران بعض انتہا پسند گروپوں کی جانب سے جوانوں کو ورغلانے اور بشار الاسد کے خلاف جہاد کے لیے شام بھیجنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دیا : شام میں جاری جنگ کسی عنوان سے بھی جہاد نہیں ہے کیوں کہ شام کی عوام مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ جہاد کے زمرے میں نہیں آتی ۔



انہوں نے مزید کہا : صرف فلسطین میں جہاد کو شرعی حیثیت حاصل ہے لیکن پھر بھی اس بات کی ابھی تک ضرورت پیش نہیں آئی کہ تمام مسلمان جہاد کے لیے مقبوضہ فلسطین چلے جائِیں ؛ مسلمان فلسطینی بھائیوں کی حمایت اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ذریعے اس مقدس جہاد میں شامل ہو سکتے ہیں ۔



1214903


نظرات بینندگان
captcha