ایکنا: فرانس سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سباستین نے ترک شہر ادانا میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منعقدہ "فلسطین کاروان" میں شرکت کے دوران شہادتین پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔
ایکنا نیوز- ایلخا نیوز ایجنسی کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق، یوسف نام رکھنے والے کارکن نے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے پروگرام "فلسطین کاروان" میں شرکت کی، جس نے بوسنیا سے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز سلام اور درود سے کیا اور فلسطین کے مسئلے کے لیے ترکیہ کے عوام کی حمایت اور یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کاروان کے شرکاء اخوت اور یکجہتی کے جذبے کو مضبوط بنانے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور غزہ میں جاری نسل کشی کے خاتمے اور مغربی کنارے پر قبضے کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
اپنی تقریر کے بعد یوسف نے "اللہ اکبر" کا نعرہ بلند کیا، جسے حاضرین نے بھی جوش و خروش اور خوشی کے ماحول میں دہرایا۔ شرکاء نے ان کے اسلام قبول کرنے پر انہیں مبارک باد دی اور ان کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
"فلسطین کی بین الاقوامی کاروانِ ضمیر" مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کارکنوں پر مشتمل ہے۔ ترکیہ میں اپنی سرگرمیاں مکمل کرنے کے بعد بھی یہ کاروان فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے مقصد سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ کاروان جولائی کے اواخر میں بوسنیا و ہرزگوینا کے شہر سربرنیتسا سے روانہ ہوا تھا اور اس کا مقصد سات ممالک سے گزر کر 25 روز میں مغربی کنارے کی جانب پہنچنا ہے۔
اس مارچ کا بنیادی مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کے حق میں عالمی حمایت کا اظہار کرنا ہے۔/
4368409