ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے بی ۔بی سی سے نقل كيا ہے كہ مركزی بغداد كے ايك پٹرول پمپ پر كار بم دھماكہ ہوا جہاں لوگ تيل كے لیے قطار میں كھڑے تھے۔ اس میں دس لوگ مارے گئے ہیں۔
دوسرے واقعے میں ايك بھیڑ بھاڑ والے بازار میں دو دھماكے ہوئے جس میں سات لوگ ہلاك ہوئے ہیں۔
اس سے قبل تشدد كے بعض ديگر واقعات میں تين مزيد امريكی فوجی ہلاك اور تين شديد طور پر زخمی ہوگئے تھے۔
اتحادی فوج كے ايك ترجمان كے مطابق بدھ كے روز جنوبی بغداد میں سڑك كے پاس بم پھٹنے سے دو فوجی ہلاك ہوئے ہیں۔ حادثے كے وقت فوج كا دستہ اس علاقے میں گشت كر رہا تھا۔
تيسرا فوجی مشرقی بغداد میں ايك دھماكے سے ہلاك ہوا ہے۔ ترجمان كے مطابق فوجی عملہ روڈ كليئر كرنے كے كام میں مصروف تھا تبھی زور دار دھماكہ ہوا۔
ايك دوسرے واقعے میں اہم شعیہ رہنما مقتدی الصدر كے ايك معتمد خاص صاحب الاميری كو امريكی فوج نے گولی مار كر ہلاك كر ديا ہے۔
الصدر گروپ كے سياسی دھڑے نے عراقی حكومت سے اس واقعے كی تفتيش كا مطالبہ كيا ہے۔
گزشتہ روز بھی سڑك پر بم دھما كے سے ليتویہ كے دو فوجی ہلاك ہوئے تھے۔ اس حملے میں بھی تين فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ بغداد میں ايك اور كار بم كے دھماكے میں كم سے كم آٹھ شہری ہلاك ہوئے ہیں۔
اسی دوران بصرہ میں تعينات ايك برطانوی كمانڈر نے كہا ہے كہ برطانوی حكومت فوج كے مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہی ہے۔
ميجر جنرل رچرڈ شرف كا كہنا ہے كہ فوجی ايك مشكل ترين مہم كو انجام دے رہے ہیں جس كو جاری ركھنے كے لیے مزيد فنڈ اور بہتر سہوليات كی ضرورت ہے۔
انہوں نے كہا ہے كہ فوجيوں كو بہتر مدد، تريبت اور ان كے لیےاچھے رہن سہن كے انتظام كی ضرورت ہے۔