حكيم اور منجم ابو معشر جعفر بن محمد بن عمر بلخی ،ابتداء میں بغداد كے عظيم محدثين میں سے تھے اور فلسفہ ،حكمت اور عقلی علوم كی مخالفت كيا كرتے تھے ليكن بعد میں ان علوم كی طرف راغب ہوكر عالی مقامات پر فاﺋز ہوۓ –ابو معشر اپنی بلند ھمتی اور انتھك محنت كے ذريعہ حكمت كے تمام شعبوں بالخصوص رياضيات ،نجوم اور ستارہ شناسی میں اچھے خاصے ماہر اور اس فن كے استاد كل بن گۓ-ابو معشر كی نجوم اور رياضی میں متعدد تاليفات ہیں جن میں سے بعض كے نام یہ ہیں :اثبات علم النجوم، ريج الھزارات، المدخل الكبير وغيرہ – ابو معشر مشہور مسلمان منجم تھے جن كی شہرت كئی صديوں بعد بھی قاﺋم تھی-ابو معشر كی راۓ كے مطابق ،تمام علوم كا سرچشمہ خدا ہے اور علم نجوم بھی اس قانون سے جدا نہیں ہے-ابو معشر كی تاليفات قديمی نوشتہ جات (كہ جن كے اصلی نسخه جات ضايع هو چكے هیں) پر مشتمل ہونے كی وجہ سے قابل توجہ ہیں-