ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق سابق عراقی وزير اعظم ابراہيم جعفری نے شيعہ اور سنی علماء كی تہران میں باہمی ہم فكری پر ہونے والی دوسری عالمی كانفرنس میں تقرير كرتے ہوۓ كہا كہ اسلام گذشتہ صديوں میں خاص كر عثمانی دور میں سخت مشكلات سے دچار رہا ہے ۔
ليكن آج امت اسلامیہ كی بيداری كے سو سال گذرنے كے بعد دين اسلام نے پوری دنيا خاص كر ايران ، تركی ، سوڈان اور دوسرے اسلامی معاشرے میں عظيم ترقی حاصل كر لی ہے ۔
جعفری نے مزيد كہا كہ مسلمانوں كے مابين اتحاد ايك دوسرے سے محبت كی شكل میں خلاصہ ہوتا ہے اور راستوں كی دوری عالم اسلام كے درميان حقيقی اتحاد میں مانع نہیں ہو سكتی سابق وزير اعظم نے دور حاضر میں اسلامی ممالك كی ترقی كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ مسلم ممالك كے ارتقاء كا اہم سبب ان كے معدنی ذخائر بالخصوص تيل ہے ان معدنی ذخائر كی بدولت عالم اسلام كو خاصی اہميت حاصل ہے ۔
انہوں نے وحدت اور يكجہتی كے بارے میں قرآنی آيات كی تلاوت كرتے ہوۓ كہا كہ قرآن مجيد امت اسلامیہ كے درميان وحدت كا اصلی محور ہے ۔
لہذا جب قرآنی اتحاد كی بات ہو تو احاديث اور مختلف دينی مكاتب كے خاص نظريات پس پشت ڈال كر صرف قرآن كو سامنے ركھا جاۓ اس لیے كہ قرآن تمام اسلامی مذاھب كے مابين مقدس ہے ، اگرچہ جزئی اختلافات امت اسلامیہ كے درميان پاۓ جاتے ہیں ليكن یہ بات بھی جاننا چاہیے كہ اسلامی امت كا عقيدہ ايك ہے ۔
جعفری نے كہا كہ آج وحدت صرف مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے بلكہ یہ ايك عالمی مسئلہ ہے لہذا وحدت كو عملی جامہ پہنانے كے لیے مسلمان اپنی واقعی حيثيت كی شناخت كے ساتھ اپنی عميق تاريخی ساكھ كو درك كریں ۔
ابراہيم جعفری نے شيعہ اور سنی كے درميان وحدت اور يكجہتی پر زور ديتے ہوۓ كہا كہ امت مسلمہ دنيا كے بدلتے ہوۓ حالات پر نگاہ ركھیں اور ايك دوسرے كا احترام كرتے ہوۓ نشستوں اور كانفرنسوں میں اپنے اختلافی مسائل كا حل تلاش كریں ۔
انہوں نے كہا كہ امت اسلامیہ اعتدال پسندی كی رعايت كرتے ہوۓ امر بہ معروف و نہی از منكر كے فريضہ كو ادا كرے اور اس كو عملی جامہ پہنانے كے لیے اسلامی ممالك میں اپنے نمايندہ وفد بھيجیں تاكہ وہ عالم اسلام كے درميان مختلف نشستیں برقرار كی جائیں اور وحدت كی راہ میں حائل ركاوٹوں كو دور كر كے آگے بڑھا جا سكے ۔
181369