بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" نےفرانس كی سركاری خبررساں ايجنسی " AFP" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ۱۶ ستمبر كو شہر " اسون " ﴿Essonne " كی مسجد " اوری" ﴿ Evry ﴾ میںمسلمانوں كی افطار پارٹی میں شريك اليوت ماری نے اس ملك كے مسلمانوں كی حمايت كرتے ہوئے كہا كہ فرانس كے وزير داخلہ كےعنوان سے ، حج كے وسائل كو فراہم كرنے، عيد قربان كےانعقاد ، حلال اشياء كی فراہمی اور اس ملك میں اسلامی معاشرے كے لیے فرانس كے قبرستانوں كےبعض حصوں كو مخصوص كرنا ميری ذمہ داری ہے۔ انھوں نے واضح كيا كہ ۲۰۰۸ء فرانس كے مسلمانوں كے لیے بہت اہم تھا كيونكہ انھوں نے فرانس كے مسلمانوں كی كونسل كےانتخابات میںشركت كر كے اپنی قسمت كے خود فيصلے كرنے كے لیے اہم كردار ادا كيا ہے۔ ميشل اليوت ماری نے بارديگر نظریہ فرانسيسی اسلام كی حمايت كرتے ہوئے اس بات پر زور ديا ہے كہ فرانس كے اداروں اور تعليمی مراكز میں اسلام كو اپنا حقيقی مقام ملنا چاہیے۔ مسجد اوری ، لندن كی مسجد احمد اور روم كی مسجد كےبعد يورپ كی سب سے بڑی مسجد ہے۔
296392