سعودی عرب پرمذہبی آزاديوں كے حوالے سے بين الاقوامی دباؤ

IQNA

سعودی عرب پرمذہبی آزاديوں كے حوالے سے بين الاقوامی دباؤ

13:03 - February 09, 2009
خبر کا کوڈ: 1742206
بين الاقوامی گروپ: حقوق انسانی سے متعلق ادارہ " HRW" نے ۶ فروری ۲۰۰۹ء كو بين الاقوامی برادری سے درخواست كی ہے كہ وہ سعودی عرب پردباؤ ڈالیں تاكہ وہ حقوق انسانی اور مذہبی آزاديوں سے متعلق اپنے قوانين میں اصلاح كرے۔
بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے" العرب آن لائن" سائٹ كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ حقوق بشر كے ادارے " HRW" نے مشرق وسطی اور شمالی افريقہ كے حقوق بشر كی انچارج " سارہ ویٹسن" نے جنيوا میں منعقد ہونے والے اقوام متحدہ كی حقوق بشر كونسل كےممبر ممالك كے اجلاس میں كہا ہے كہ سعودی عرب نے اب تك عورتوں كے حقوق ، مذہبی اور دينی آزاديوں اور مذہبی امتياز كو ختم كرنے كے حوالے سے اپنے كسی معاہدے پر عمل نہیں كيا ہے۔ اس نے سعودی عرب كی حقوق بشر كونسل كی رپورٹ پر بھی تنقيد كی ہے اور كہا ہے كہ یہ كونسل سركاری ادارہ ہے اور اس كی رپورٹ واقعيت پر مبنی نہیں ہے۔ كيونكہ سعودی عرب میں حقوق بشر كی كھلی خلاف ورزياں ہو رہی ہیں۔ سارہ نے مزيد كہا كہ سعودی عرب كی حقوق بشر كونسل نے كہا كہ اس رپورٹ كی تياری میں غير سركاری ادارے بھی موجود تھے جبكہ سعودی عرب كے مشہور قانون دانوں نے اس كا انكار كيا ہے۔ ياد رہے كہ اقوام متحدہ كی حقوق بشر كونسل كے ممبر ممالك كا اجلاس ۶فروری ۲۰۰۹ء كو جنيوا میں شروع ہوا ہے۔ اس اجلاس كے شركاء پہلی مرتبہ سعودی عرب میں حقوق بشر اور مذہبی آزاديوں كی خلاف ورزيوں كا جائزہ لیں گے۔
360221

نظرات بینندگان
captcha