بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے مصری روزنامہ "اليوم السابع" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ اس سيمينار میں اسلام میں عورت كے حقوق، اسلامی شريعت اور احكام میں عورت كا مقام، پيغمبر اكرم(ص) كے دور سے ليكر آج تك كے اسلامی معاشرے كے مختلف ميدانوں میں عورت كی شركت جيسے موضوعات پربحث و گفتگو كی گئی ہے۔
الازہر يونيورسٹی كے سربراہ "احمد الطيب" نے اس سيمينار سے خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ مسلمان عورتوں نے مختلف ميدانوں میں اپنی صلاحيتوں كو ثابت كيا ہے اور اس وقت الازہريونيورسٹی سے وابستہ كالجز میں عورتوں كو مناسب تعليم حاصل كرنے كی آزادی ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ الازہر كے طلباء كو ہر قسم كے تعصب اور شدت پسندی سے ہٹ كر اسلامی معارف كے حقائق سے آگاہ كيا جاتا ہے۔
ايك امريكی استاد نے بھی تقرير كرتے ہوئے كہا كہ اسلام نے مرد و خواتين كے حقوق كو مساوی طور پر معين كيا ہے اور دين اسلام میں خواتين كے حقوق كا پاس ركھا گيا ہے اور وہ معاشرے كی سماجی سرگرميوں میں گوشہ نشين نہیں ہیں۔
522410