دانشگاہ آزاد اسلامی میں مددگار استاد رؤيا خويی نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كے ساتھ بات چيت كرتے ہوئے اس مطلب كے ضمن میں كہا : تجربہ سے پتہ چلتا ہے كہ قرآن كريم كے ديگر زبانوں میں ترجمے كے لیے مترجم كو عربی كے علاوہ اسلامی علوم ، فقہ ، شان نزول ، فن ترجمہ اور ادبی سبك سے بھی مكمل طور پر آشنا ہونا چاہئیے ۔
انہوں نے واضح كيا : اگر كوئی مترجم فلسفہ يا كلام پر عبور ركھتا ہو ليكن ادبی قوانين سے مكمل طور پر آگاہ نہ ہو تو وہ ترجمہ كرتے ہوئے مشكلات كا شكار ہو سكتا ہے اور اپنی زبان میں صحيح طور پر مفہوم منتقل نہیں كر سكے گا ۔
901653