عراق كے نامور محقق اور مورخ، كوفہ يونيورسٹی كے سابق سربراہ، علم حديث اور فلسفہ تاريخ كے استاد حسن عيسی الحكيم نے ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا)سے گفتگو میں كہا: قرآن كريم مسلمانوں كی مقدس كتاب اور كلام اللہ ہے۔ اس كا احترام تمام مسلمانوں اور غير مسلمانوں پر واجب ہے۔ تمام مسلمانوں اور تمام آسمانی اديان كے پيروكاروں كو اسلامی مقدسات اور قرآن كا احترام كرنا چاہئے اور اسی طرح مسلمانوں كو بھی تمام آسمانی اديان كی مقدس كتابوں اور دوسرے مقدسات كا احترام كرنا چاہئے۔
حسن عيسی الحكيم نے كہا قرآن كريم كی بے حرمتی بہت بڑا جرم ہے۔ اور اس كے مقابلے میں خاموش نہیں رہنا چاہئے كيونكہ قرآن كريم كا احترام اسلامی اعتقادات كا مہم حصہ ہے اور ہم پر واجب ہے كہ اس كی توہين كے مسٔلہ كو غير قابل قبول قرار دیں۔
انہوں نے مزيد كہا مسلمانوں كو اس مسٔلہ میں اپنی وحدت اور ہمدلی كو محفوظ ركھنا چاہےن۔ اس عراقی مؤرخ سے جب پوچھا گيا كہ قرآن كريم كی بے حرمتی كرنے كا كيا مقصد ہوسكتا ہے؟ الحكيم نے جواب میں كہا: قرآن پاك كی توہين كرنے والوں كا ہدف اسلامی معاشرے اور مسلمانوں كے درميان تفرقہ اور وحدت ختم كرنا ہے۔
انہوں نے كہا اسلامی مقدسات كی توہين مخصوصا قرآن پاك كی توہين ايسا مسٔلہ نہںی ہے جس پر سكوت اختيار كيا جائے كيونكہ ہمارے تمام اعتقادات كی بنياد قرآن كريم اور احاديث نبی مكرم (ص)پر استوار ہے ۔
962161