عرب ممالك میں اٹھنے والی اسلامی بيداری كی لہر كا آغاز تیونس سے ہوا تھا اگرچہ كہ اس ملك میں فرانسوی زبان بولنے والوں كی تعداد عربی زبان والوں سے زيادہ ہے مگر ملك كے مسلمان عرب معاشرے نے انصاف کے لیے آواز بلند کی اور كچھ ہی عرصے میں عرب ممالك سے فساد كے خاتمے کی سنجيدہ كوششوں كا آغاز ہو گيا ۔
قابل ذكر ہے اسرائیلی حکومت کے لیے تیونس اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل تھا كہ مصر كے بعد اسلامی ممالك میں تیونس ہی اسرائيل كا سب سے بڑا تجارتی شريك سمجھا جاتا تھا ۔ اور یہ تجارتی تعلقات آشكار اور خفیہ طور پر جاری تھے یہاں تك كے بن علی کی حکومت سرنگوں ہوئی اور نئی حكومت نے ملك میں جديد اصلاحات كا مطالبہ كرديا ۔
977053