داعش کا خطرہ، کرم ایجنسی میں الرٹ

IQNA

داعش کا خطرہ، کرم ایجنسی میں الرٹ

14:33 - April 03, 2016
خبر کا کوڈ: 3500530
بین الاقوامی گروپ: کرم ایجنسی کی سرحد سے ملحقہ افغان علاقےمیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں کی موجودگی پر تشویش میں مبتلا پاکستانی حکام نےاس ناگزیر خطرے سے نمٹنے کیلئے قبائلیوں کو متحرک کر دیا

ایکنا نیوز- مقامی افراد نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز پارا چنار میں اپنی پوسٹوں سے سرحد پار بھاری گولہ باری کر رہی ہیں، جبکہ انتظامیہ نے علاقے کے رہائشیوں کوہدایت کی ہے کہ وہ رات کو چوکنا رہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق پارا چنار کےایک رہائشی نے بتایا کہ رات نو بجے کے بعد شروع ہونے والی گولہ باری سے پورے علاقے میں دہشت پھیل جاتی ہے۔

ذرائع نےبتایا کہ دولت اسلامیہ اور ٹی ٹی پی (سجنا گروپ) افغان صوبے پکتیا کےعلاقے کیماتی میں اپنی پناہ گاہوں سے پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔

حال ہی میں پکتیا سے ملحقہ پاکستانی علاقوں بورکی اور کیرلاچی میں دوسیکیورٹی پوسٹوں پر حملہ کیا گیا۔

دولت اسلامیہ نے پہلے ہی کرم ایجنسی کے شمال میں افغان صوبے ننگرہار کے کچھ اضلاع میں اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

پشاور میں ایک سیکیورٹی افسر نے کرم میں ایف سی کی چیک پوسٹوں پر حملے کی تصدیق کی۔

بورکی کے ایک مقامی شخص کے مطابق حکام نے بتایا کہ دولت اسلامیہ اور ٹی ٹی پی جنگجو چیک پوسٹوں پر حملوں میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی ہدایت پر بورکی اور کیر لاچی میں لوگ پچھلے ایک مہینے سے رات کو چوکنا رہ رہے ہیں۔

’محتاط رہنے کے علاوہ علاقے کے عمائدین نے اظہار یک جہتی کیلئے پیرا ملٹری فورسز کو چاربھاری مشین گنز اور گولہ بارود دیا ہے‘۔

ذرائع کے مطابق، کرم ملیشیا کے کمانڈنٹ اور نائب پولیٹیکل ایجنٹ نے خطرے کے خلاف مقامی لوگوں کو متحرک کرنے کیلئے ہفتے کو پارا چنار کےقریب توری، بنگش اور منگل قبائل کے عمائدین سےملاقات بھی کی۔

نظرات بینندگان
captcha