ایکنا نیوز-ڈان نیوز کے مطابق انڈیا میں حال ہی میں ایک ایونٹ کے دوران سنجے دت نے کہا ' ایک بار جب آپ امید چھوڑ دیتے ہیں تو زندگی آسان اور آپ بچ نکلتے ہیں۔ جیل میں کچھ نہیں ہوتا ماسوائے امید کے، مگر جب میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے کوئی امید نہیں چاہئے، تو سلاخوں کے پیچھے کا سفر آسان اور بہت تیزی سے کٹ گیا'۔
اس ایونٹ کے دوران سنجے دت نے اپنے جیل کے ایام پر روشنی ڈالی جو انہیں 1993 میں ممبئی بم دھماکوں کے پیچھے موجود گروپس کے سپلائی کردہ ہتھیاروں کو اپنے پاس رکھنے کے جرم میں کاٹنے پڑے۔
انہوں نے 23 سال پہلے کا وہ لمحہ دہرایا جب انہیں اپنے خلاف الزامات کے بارے میں علم ہوا ' میں اس وقت موریشش میں شوٹنگ کررہا تھا جب میری بہن نے فون کرکے کہا کہ میرے خلاف رائفلز رکھنے کا مقدمہ درج ہوا ہے اور میں کہا ، کیا واقعی؟'
سنجے دت اس کے فوری بعد انڈیا پہنچے 'جب میں بمبئی ائیرپورٹ پہنچا اور سلائیڈ سے نیچے آرہا تھا تو میں نے دیکھا کہ 50 ہزار پولیس اہلکاروں نے اپنی گنیں مجھ پر ایسے تان رکھی ہیں جیسے میں اسامہ بن لادن ہوں'۔
سنجے دت مزید بتاتے ہیں ' میں نے جیل میں رامائن، بھگوت گیتا، بائبل، قرآن شریف اور گورو گرنتھ صاحب پڑھی، اب میں بیٹھ کر کسی بھی مولانا یا پنڈٹ سے بات کرسکتا ہوں اور دلائل دے سکتا ہوں۔ میرے گھر میں چھوٹا سا مندر ہے، مگر خدا تو آپ کے دل میں ہوتا ہے'۔