ایکنا نیوز- پریس ٹی وی کے مطابق کفن دفن کے اخراجات اور دفن کے شرائط سے مسلمان سخت نالاں ہیں
العربیہ سایٹ کی رپورٹ کے مطابق سال ۲۰۱۱ میں تیونس کے ایک لاوارث جوان علی محمد کی موت اور خاندان سے رابطے میں ناکامی کی وجہ سے تین ہفتے تک وہ بغیر دفن کے سرد خانے میں پڑا رہا جسپر شدید اعتراضات اور بحث کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔
علی کے دوست جمال کا کہنا ہے دفن کے اخراجات اور اسی طرح جسد لیجانے کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ اکثر لوگ اس کی ادائیگی سے قاصر ہیں.
۵ هزار ڈالر خرچہ
علی کے دوست کا کہنا ہے کہ ایک مسلمان کے کفن دفن پر ۵ هزار ڈالر خرچ کرنا پڑتا ہے اور اگر علی کو تیونس لیجایا جاتا تو اسپر ۲۵ ہزار ڈالر اخراجات آتے
انہوں نے کہا: «علی کی فیملی نے درخواست کی تھی کہ انکا جنازہ تیونس بیجھوایا جائے اور ہم نے یہاں دوستوں سے کافی امدادی رقم جمع کی لیکن پھر بھی مطلوبہ رقم پوری نہ کرسکے.»
لہذا انکے خاندان کی خواہش کے باوجود ہم انہیں یہیں غیر اسلامی قبرستان میں دفن کرنے پر مجبور ہوئے گرچہ اسکا خرچہ بھی کم نہ تھا
اسلامی کونسل کی کوششوں کے باوجود اب تک نیویارک میں مسلمانوں کے لیے الگ سے قبرستان نہیں بنایا جاسکا ہے
کونسل کے ڈائریکٹر ابراهیم هوبر کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ اس بات سے نالاں ہیں کہ انکے پیارے غیر مسلم قبرستان میں دفنایے جاتے ہیں
انکا کہنا ہے کہ ہفتے کے درمیان موت پر تین چار دن تک ہفتہ و اتوار تک دفن کے عمل کو روکنا بھی دیگر مشکلات میں سے ہے ۔