ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «WB»،کے مطابق مسلمان سخت دباو کا شکار ہے اور انکو مجبور کیا گیا ہے کہ ہر کیمونزم مخالف سرگرمی کی فوری رپورٹ دیں ورنہ انکے خلاف سخت کاروائی ہوسکتی ہے
اویغورکے مسلمانوں کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ دیگر مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کریں
کیزیلسو گاوں کے افراد سے زبردستی دستخط لیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے رپورٹ نہ دی تو خلاف ورزی پر انکے خلاف اجتماعی کاروائی کی جائے گی۔
انسانی حقوق کے اداروں نے چینی مسلمانوں پر بیجا سختی اور تشدد پر چین کو انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب قرار دیا ہے
حال ہی میں چینی صدر، شی جین پینگ نے مسلماںوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اسلامی احکامات سے ہاتھ کھینچ کر کیمونزم کی تعلیمات اور قوانین پر عمل کریں
انہوں نے عدم تحمل کی پالیسی پر تاکید کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین میں رہنے والے کیمونزم تعلیمات کے برعکس اعمال اپنانے سے گریز کریں!
سینکیانگ میں اکثر مسلمانوں عرصے سے سخت ترین مشکلات اور حکومتی مظالم کا شکار ہیں اور شدت پسندی سے مقابلے کے نام پر حجاب، قرآنی کلاسز حلال مصنوعات سے انکو روکا جا رہا ہے.