شیعہ سنی اتحاد ایران کی اہم ترین پالیسی ہے، اس حوالے سے کئے جانیوالے ہر اقدام کی حمایت کرتے ہیں، ڈاکٹر ولایتی

IQNA

شیعہ سنی اتحاد ایران کی اہم ترین پالیسی ہے، اس حوالے سے کئے جانیوالے ہر اقدام کی حمایت کرتے ہیں، ڈاکٹر ولایتی

18:37 - May 30, 2016
خبر کا کوڈ: 3500892
بین الاقوامی گروپ: تہران میں انڈونیشیا کے اہلسنت علمائے کرام کے ایک وفد سے گفتگو میں انٹرنیشنل امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر نے مسلم ممالک میں تکفیریوں کی سرگرمیوں کیجانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سامراجی طاقتوں کے مفادات کی تکمیل اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی غرض سے تکفیری دہشتگرد گروہوں کی تقویت کی جا رہی ہے۔

ایکنانیوز- اسلام ٹائمز۔ انٹرنیشنل امور میں رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر اور ایران کے اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے شیعہ سنی اتحاد کو ایران کی اہم ترین پالیسی قرار دیا ہے۔

تہران میں انڈونیشیا کے اہلسنت علمائے کرام کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے لئے کئے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی کے مشیر نے مسلم ممالک میں تکفیریوں کی سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سامراجی طاقتوں کے مفادات کی تکمیل اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی غرض سے تکفیری دہشت گرد گروہوں کی تقویت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے انڈونیشیا میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف انجام پانے والے بعض اقدامات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے انڈونیشیا کے عوام نے اس مشکل پر غلبہ پا لیا ہے اور آج اس ملک میں تکفیری فتنہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

ایران کے اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر کے سربراہ علی اکبر ولایتی نے مختلف پروگراموں میں مشارکت کے لئے انڈونیشیا کے سنی علمائے کرام کی ایران آمد کو شیعہ سنی اتحاد کا عملی نمونہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایران اور انڈونیشیا عالم اسلام کے دو بڑے ملکوں کی حثیت سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے قیام میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔


نظرات بینندگان
captcha