
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «NYULocal» کے مطابق ایک مسلمان طالب علم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے نماز خانے کی دیوار پر ٹرمپ کا نام لکھا گیا ہے
اگرچہ ٹرمپ نے کامیابی کے بعد اپنے موقف بدلتے ہوئے اسلام مخالف بیانات پر معتدل مزاجی کا رویہ اپنایا ہے مگر انکے گذشتہ بیانات کے اثرات اب تک مسلمان آبادی پر ظاہرہورہے ہیں ۔
ٹرمپ نے انتخاباتی مہم کے دوران متعدد بار مسلمان کے داخلے روکنے اور ان پر نظر رکھنے کے بیانات دیے تھے۔
نماز خانے کی دیوار پر وال چاکنگ کے بعد یونیورسٹی طلبا نے مظاہرہ کیا ہے۔
نفرت و نسل پرستی کے خلاف مظاہرے میں شریک طلباء نے امریکہ میں بقائے باہمی اور بہتر مستقبل کا مطالبہ کیا اور نفرت و تعصب کے خلاف نعرے لگائے۔