
ایکنا نیوز- شفقنا- زائرین جن کے ساتھ عورتیں، بوڑھے اور بچے، پیر و جواں ہر عمر کے لوگ ہیں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں خواتین کیلئے نہ پردے کا انتظام نہ سر پر سائبان اگر بارش ہوگئی تو صورتحال مزید دگرگوں ہوجائے گی. چاروں طرف سے سرد ہوا کے تپھیڑے جنہیں برداشت کرنا جوانوں کیلئے بھی ایک امتحان ہے جبکہ بچے نمونیہ اور بخار میں مبتلا ہیں. خواتین کے 6 واش روم زنانہ اور 8 مردانہ جن میں طہارت کیلئے پانی تک موجود نہیں. کھانے کیلئے ایک کینٹین جس پر دو چپاتیاں اور ایک پلیٹ دال 90 روپے کی دستیاب ہے.
زائرین کی گاڑیاں جو چاردیواری کے باہر کھڑی کروادی جاتی ہیں تاکہ زائرین رات نسبتا آرام سے گاڑیوں میں نہ بسر کرسکیں. حد تویہ ہے کہ چاردیواری سے باہر موجود گاڑیوں میں سے کھانے پینے ادوایات اور دیگر اشیاء ضروریہ کا سامان تک اٹھانے کی اجازت نہیں ہے بس ایک دفعہ چاردیواری میں داخل ہوگئے تو دوبارہ گاڑیوں میں سامان کیلئے بھی جانے کی اجازت نہیں ہے. پچھلے سال چاردیواری کے اندر گاڑیاں آتی تھیں لیکن، شاید حکومت کو تھوڑا سا بھی زائرین کا سکون و آرام ایک آنکھ نہ بھایا. کل رات زائرین نے جب گاڑیوں سے سامان اٹھانے کیلئے باہر موجود گاڑیوں میں جانا چاہا تو ان پر ایف سی والوں نے ڈنڈے برسائے.
زائرین کیلئے حکومت انتظامات کیوں نہیں کرتی؟
یخ بستہ راتوں میں کھلے آسمان تلے راتیں بسر کرنا کیا ہم پاکستانی شہری نہیں ؟ حکومت کیوں نہیں وہاں زائرین کیلئے مناسب رہائش اور قیام و طعام کا انتظام نہیں کرتی؟
گاڑیوں کو چاردیواری کے اندر کھڑاکیا جائے یا ان تک زائرین کو جانے دیا جائے تاکہ وہ اشیائے ضروریہ کا سامان اٹھا سکیں. کیوں زائرین کو سیکیورٹی کے نام پر کبھی کوئٹہ اور کبھی تفتان پر آتے اور جاتے وقت بے جا تنگ کیا جاتا ہے؟
زائرین کی طرف سے سے پرزور اپیل کی جاتی ہے کہ ان کی مشکلات کے مستقل حل کیلئے اعلی حکام سے رابطہ کیا جائے ان مسائل و اشکلات کا ازالہ کیا جائے.