
ایکنا نیوز- پریس ٹی وی کے مطابق ملایشیاء کی وزارت خارجہ نے سخت بیان میں کہا ہے کہ ایک خاص قوم کو ظلم کا نشانہ بنانا دراصل انکی نسل کشی کے مترادف ہے
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مسلہ ایک بین الاقوامی ایشو بن چکا ہے اور اس پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے
وزارت خارجہ کے مطابق لاکھوں برمی مسلمان دوسرے ممالک میں ہجرت پر مجبور ہوگیے ہیں اور کم از کم چھپن ہزار کی تعداد میں مسلمان ملایشیاء میں پناہ لینے پرمجبورہوچکے ہیں ۔
کوفی عنان نے ایک مسلم نشین دیہات کا دورہ کیا جہاں مسلمانوں کے گھروں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ اس موقع پر پولیس نے صحافیوں کو وفد سے ملنے اور تصاویر لینے سے روک دیا
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں گھروں کو جلایا گیا ہے خواتین کی عصمت دری اور مردوں کو تشدد کیا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ برما کے حکام ان الزامات کو مسترد کرچکے ہیں
حکام کے مطابق پولیس دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور یہ برما کا داخلی مسلہ شمار ہوتا ہے۔
سب سے زیادہ راکھین صوبے میں مسلمانوں پر ظلم کیا جارہا ہے جہاں شدت پسند بودھائیوں کو سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے۔
سال ۱۹۸۲ سے برمی مسلمان اپنے ہی ملک میں مسلمان ہونے کی بناء پر شہریت سے محروم کیا گیا ہے اور ان پر ظلم ڈھایا جارہا ہے۔
حالیہ تشدد کے دور میں ہزاروں لوگ دوسرے ممالک میں فرار ہوچکے ہیں۔