
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے Dünya Bülteni کے مطابق فرانس کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں گذشتہ چند سالوں سے اسلامو فوبیا میں تیزی سے شدت آرہی ہے
ماہرین کے مطابق مساجد اور اسلامی مراکز پر حملوں میں تیزی کی اہم وجہ حکومتی چشم پوشی ہے اور دوسری وجہ میڈیا کا متعصبانہ اور جانبدارانہ کردار ہے جو اسلامی مراکز پر حملوں کو عام واقعے کے طور پر پیش کرتا ہے
ماہرین کے مطابق حکومتی بےحسی اور خاموشی کی وجہ سے واقعات میں روز بروز اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
اسلامی واچ تنظیم کے رکن «کوثر ڈیلک» نے حکومتی رویے پر افسوس کا اظھار کرتے ہوئے کہا : ذمہ دارحکام کا فرض بنتا ہے کہ ان واقعات کی روک تھام کے لیے کوشش کریں مگر وہ سردمہری سے واقعات کو دیکھ رہے ہیں گویا مسلمان انکے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔
فرانس میں اسلامی انجمن کے ترجمان«مروان محمد» کا کہنا ہے کہ میڑوپولیٹن یا انشورنس کمپنیوں نے اب تک مساجد پر حملوں اور آگ لگانے کے واقعات پر رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
سول سوسائٹی کی سربراہ «ماروئوانه زکی» نے اسلامی مراکز اور مساجد پر حملوں کو قابل تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں حکومتی پالیسی مبہم اور ناقابل فہم ہے ۔