آسٹریا میں اسلامی چایلڈ کئیر سنٹر پر اعتراضات

IQNA

آسٹریا میں اسلامی چایلڈ کئیر سنٹر پر اعتراضات

7:12 - April 17, 2017
خبر کا کوڈ: 3502823
بین الاقوامی گروپ: ویانا میں سروے اور اسلامی چایلڈ کئیر سنڑپر شدت پسندی کے الزامات کے بعد اعتراضات شروع ہوگیے ہیں

آسٹریا میں اسلامی چایلڈ کئیر سنٹر پر اعتراضات


ایکنا نیوز- خبررساں ویب سایٹ «Malaysia Today» کے مطابق ویانا میں ترک نژاد یونیورسٹی استاد عدنان اصلان کے سروے اور تحقیق کے نتیجے کے بعد اس حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گیی ہے۔

دس ہزار بچوں پر تحقیق کے بعد کہا گیا ہے کہ عیسائی چایلڈ کئیر سنٹر میں بچوں کو انجیل اور اسلامی مراکز میں قرآن مجید سکھایا جاتا ہے۔

اصلان کا کہنا ہے کہ ان میں کم از کم ایک چوتھائی اسلامی چایلڈ کئیرسنٹر شدت پسند سلفیوں کے کنڑول میں ہیں جو دین کو سیاسی طور پر استعمال کررہے ہیں۔


اس سروے کے بعد عوامی اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور انکا کہنا ہے کہ ان مراکز سے شدت پسند افراد پیدا ہوں گے

فرنچ نیوز کے مطابق والدین ان مراکز میں بچوں کو اس سوچ کے ساتھ بھیجتے ہیں کہ یہ یہاں پر قرآن مجید سیکھ لیں گے مگر انکو معلوم نہیں کہ یہاں سے شدت پسند بن کر واپس ہوں گے

دوسری جانب بعض دیگر اداروں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے جبکہ ویانا کے میڑوپولیٹن انتظامیہ نے اس بارے میں تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے۔


ویایا میں اس وقت آٹھ سو بیالس چایلڈ کئیر مرکز کام کررہے ہیں اور اب تک یہ معلوم نہیں کہ اس میں اسلامی چایلڈ کئیرمراکز کی تعداد کتنی ہے۔

نو ملین کی آبادی والا ملک آسٹریا سال ۲۰۱۵ سے اب تک ایک لاکھ تیس ہزار مہاجر قبول کرچکا ہے۔

اسلامی مراکز نے اصلان کی تحقیق اور سروے کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مسلمانوں کی مشکلات بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔

3589948

نظرات بینندگان
captcha