
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی «IINA» کے مطابق پولیس نے بھی خبردار کیا ہے کہ لندن دہشت گردانہ واقعات کے بعد مسلمانوں کے خلاف جرائم میں پانچ گناہ اضافہ ہوچکا ہے۔
تیزاب پھینکنے اور نمازیوں پر حملے کے واقعات عام ہورہے ہیں جنمیں درجنوں مسلمان شہید و زخمی ہوچکے ہیں
اسلامی کونسل کے سیکریٹری هارون خان کا کہنا ہے کہ مسجد فینزبری واقعے کے بعد حملوں میں تیزی آئی ہے اور حکومت کا اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
انکا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ان جرایم کی رپورٹ کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔
هارون خان نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا بیان اچھا تھا مگر ایک واضح پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ ان مسایل پر قابو پایا جاسکے۔
انکا کہنا تھا کہ اس تعصب اور فضا کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ ایک عادت میں بدل سکتی ہے
برطانیہ کی اسلامی کونسل میں ۵۰۰ اسلامی مراکز، مسجد، فلاحی ادارے اور اسکول ممبر ہیں۔
۔۔