او آئی سی کا روہنگیا مسلمانوں کے لیے مہم کے آغاز کا اعلان

IQNA

او آئی سی کا روہنگیا مسلمانوں کے لیے مہم کے آغاز کا اعلان

14:54 - May 07, 2018
خبر کا کوڈ: 3504545
بین الاقوامی گروپ:اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے روہنگیا پناہ گزینوں کے معاملے پر میانمار کے خلاف کارروائی کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مہم کا آغاز کردیا

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہونے والے آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس یا او آئی سی کے دو روزہ اجلاس میں 53 رکن ممالک کے وزراء اور سفیروں نے شرکت کی، جس میں اس مہم کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

او آئی سی کے جنرل سیکریٹری يوسف بن احمد العثيمين نے اس اقدام کو روہنگیا مسلمانوں کی میانمار سے ہجرت کر کے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں آمد کے باعث پیدا ہونے والی بحران کی صورت حال کے خاتمے کے لیے بہت اہم قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا احتساب کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے اور ان کا تعاون حاصل کرنے کے لیے کام کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ اقدام بہت اہمیت کا حامل ہے جو روہنگیا کے مسلمانوں کے مسئلے کو حل کرنے کی سمت ایک ٹھوس قدم ہوگا‘۔

واضح رہے کہ میانمار کی رخائن اسٹیٹ میں گزشتہ سال اگست میں فوج کی پرشدد کارروائیوں کے آغاز کے باعث روہنگیا مسلمانوں کا ہجرت کے بعد بنگلہ دیش میں پناہ لینے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مذکورہ ہجرت سے قبل بنگلہ دیش میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں پہلے ہی سے 3 لاکھ روہنگیا مسلمان موجود تھے۔

خیال رہے کہ امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب سے ان پرتشدد کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے جبکہ میانمار کی فوج کا کہنا تھا کہ کارروائیوں میں صرف عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سلسلے میں روہنگیا مسلمانوں کا کہنا تھا کہ میانمار فوج بڑے پیمانے پر قتلِ عام اور ریپ کے واقعات میں ملوث ہے اور انہوں نے سیکڑوں روہنگیا گاؤں جلا کر خاکستر کردیئے۔

يوسف بن احمد العثيمين کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو بین الاقوامی برادری پر دباؤ ڈالنا ہوگا، یہ کوئی مذہبی نہیں بلکہ 50 سال سے جاری انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔

اس ضمن میں بین الاقوامی جرائم کی عدالت میں استغاثہ کی جانب سے ٹریبیونل سے میانمار میں قتل عام اور ریپ کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے اجازت طلب کی گئی جبکہ بنگلہ دیش نے میانمار پر پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے خاصہ سفارتی دباؤ بھی ڈالا۔

نظرات بینندگان
captcha