
ایکنا نیوز-ابتدائی طور پر اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) داتا دربار نے بتایا تھا کہ دھماکے میں 3 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے، تاہم بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز نے دھماکے میں 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی۔
ڈان نیوز ٹی وی کے مطابق جس گاڑی کے قریب دھماکا ہوا وہ داتا دربار کی سیکیورٹی پر مامور تھی جبکہ دھماکے بعد داتا دربار کے تمام راستوں کو بند کردیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق دھماکا داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب ہوا جبکہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکے میں پولیس وین کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 3 پولیس اہلکار اور 2 شہری جاں بحق ہوئے، جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھا کرنا شروع کردیے جبکہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو میو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے 15 افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ، جن میں سے 9 کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
ادھر ایس پی سٹی ڈویژن سید غضنفر شاہ نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 15 زخمیوں میں سے 8 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ تمام افراد کو میو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشن محمد اشفاق نے بتایا کہ دھماکے میں 5 افراد شہید ہوئے، جس میں 3 پولیس اہلکار، ایک سیکیورٹی گارڈ اور شہری شامل ہیں جبکہ کل 24 افراد زخمی ہوئے ہیں، جس میں 4 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دھماکے کے عام اطلاعات تھی لیکن مخصوص داتا دربار سے متعلق کوئی اطلاع نہیں تھی۔
ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ پولیس کا محکمہ قربانیاں دے رہا ہے، شہریوں کی ذمہ داری ہمارا فرض ہے اور ہم اسے پورا کریں گے۔
اگر داتا دربار کی بات کی جائے تو یہ پاکستان کے ان مزاروں میں سے ایک ہے جہاں زائرین کی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔
پولیس اور ریسکیو ذرائع کہتے ہیں کہ یہ داتا دربار کے باہر دوسرا حملہ ہے، اس سے قبل جولائی 2010 میں پہلا حملہ ہوا تھا، جس میں 50 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے تھے۔