
ایکنا نیوز- «آستانہ علوی» کے مطابق غدیر فیسٹیول جو اتوار سے شروع ہوا ہے امام علی(ع) کے شمالی حصے میں واقع
مسجد «عمران بن شاهین» میں نایاب اور تاریخی نسخوں کی نمایش جاری ہے۔
دیگر تاریخی کتابوں کے علاوہ اس نمایش میں حضرت علی(ع) کے خط سے تحریرکردہ مصحف جو سال ۴۰ هجری قمری کو لکھی گیی ہے اس نمائش میں پیش کی گیی ہے۔
آستانہ علوی کے متولی کے مطابق اس نمایش میں آستانہ علوی کے علمی خزانے کا صرف ایک حصہ پیش کیا گیا ہے۔
آستانہ علوی کونسل کے رکن«فائق عبدالحسین الشمری» کا کہنا ہے کہ اس نمایش کو اس حوالے سے اہمیت حاصل ہے کہ اس میں بہت بہترین تاریخی خطی نسخوں کو پیش کیا گیا ہے جنمیں امیرالمؤمنین(ع) کی مصحف جو ۱۴۰۰ پرانی ہے پہلی بار اس میں پیش کی گیی ہے۔
الشمری کے مطابق ایک جدید میوزیم جو صحن حضرت فاطمه (س) میں قایم کیا گیا ہے جلد اس کا بھی افتتاح ہوگا۔
آثار قدیمہ کے سربراہ «فارس حسین کریم» کا کہنا تھا: اس میوزیم میں پرانے قالین، فرش، سپر وغیرہ موجود ہیں جو سو سے ۲۵۰ سالہ پرانے ہیں جبکہ ایک ہزار سال قبل کے آثار بھی موجود ہیں۔/






