IQNA

14:53 - September 03, 2019
خبر کا کوڈ: 3506580
بین الاقوامی گروپ: لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے عزاداریٔ حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کے پہلے جوابی اقدام کیطرف اشارہ کرتے ہوئے حاصل ہونیوالی توفیق اور فتحیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور ساتھ ہی ساتھ گذشتہ 8 دنوں سے میدان میں موجود مجاہدینِ اسلام کا بھی شکریہ ادا کیا۔
ایکنانیوز - اسلام ٹائمز۔ لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک "حزب اللہ" کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے گذشتہ شب عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں حزب اللہ لبنان کی اسرائیل کے خلاف اپنی پہلی جوابی کارروائی پر بھی گفتگو کی۔ سید حسن نصراللہ نے اپنے خطاب کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے حضور شکر بجا لانے سے کی، جس کے بعد انہوں نے میدانِ کارزار میں موجود مجاہدینِ اسلام کی زحمتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ حاصل ہونے والی توفیق اور فتحیابی پر ہم اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہیں جبکہ مجاہدینِ اسلام اور ان کے کمانڈرز کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں، جو گذشتہ 8 دنوں سے مقبوضہ فلسطین کی سرحد کے گرد پوری طرح سے تیار حالت میں رہے۔ سید حسن نصراللہ نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کو حقائق سے آگاہ کرنے والے خبرنگاروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
 
سید حسن نصراللہ نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی تازہ ترین جوابی کارروائی کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجاہدینِ اسلام کی جدوجہد کی برکت سے دشمن کیساتھ دفاعی توازن کے میدان میں بھی اہم پیشرفت حاصل ہوئی ہے، جو اسلامی مزاحمت کے "نقاطِ قوت" میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اپنی طرف سے جوابی کارروائی کے اعلان پر غاصب صیہونی کے دل میں بیٹھ جانے والے خوف و دہشت کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا (یہ اُن کے دلوں میں خوف و وحشت کا ہی اثر تھا کہ) غاصب صیہونی فوجیوں نے لبنان کیساتھ واقع اسرائیلی سرحد کو تمامتر فوجیوں یا بکتر بند گاڑیوں سے بالکل خالی کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دشمن کو یہ کہا تھا کہ وہ اپنی حدود میں رہے لیکن وہ تو میدان ہی خالی چھوڑ کر بھاگ گیا، جبکہ غاصب صیہونی رژیم کی سرحد سے اسرائیل کے اندر 7 کلومیٹر تک کے فاصلے تک بھی دشمن کی کوئی نقل و حرکت نہیں تھی۔
حجت الاسلام سید حسن نصراللہ نے زور دیتے ہوئے کہا آج کے بعد سے صیہونی دشمن کے مقابلے میں ہم کسی قسم کی کوئی ریڈ لائن ملحوظ خاطر نہیں رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد کا زیادہ تر حصہ "نفسیاتی جنگ" پر مبنی تھا، جس کی بناء پر ہم نے غاصب صیہونی فوجیوں کو کہا تھا کہ ہماری جوابی کارروائی کا انتظار کریں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ گذشتہ چند دنوں سے ہم ذلیل و حقیر اسرائیل سے اس جملے کے ہمراہ روبرو تھے کہ "اسرائیل مکڑی کے جال سے بھی زیادہ کمزور ہے۔" سید حسن نصراللہ نے کہا کہ دشمن کی تمامتر احتیاطی تدابیر کے باوجود اسلامی مزاحمت نے اسرائیل کی سرحدی حدود میں گہرائی تک جا کر جوابی کارروائی انجام دی جبکہ اس جوابی کارروائی میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ دشمن کی تمامتر دھمکیوں کے باوجود یہ کارروائی نہ صرف انجام پائی بلکہ کامیاب بھی رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں ہمارا سب سے بڑا کارڈ یہ تھا کہ ہم نے سخت دھمکیوں کے باوجود اپنے وعدے پر عمل کیا۔ انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان دھمکیوں سے نہ صرف حزب اللہ کے جوان نہیں ڈرے بلکہ لبنانی حکام نے بھی کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں کیا۔
 
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا کہ گذشتہ دسیوں سالوں سے اسرائیل کیطرف سے جو "ریڈ لائن" کھینچی گئی تھی، اس کارروائی میں وہ بھی ٹوٹ گئی ہے جبکہ اس حوالے سے تازہ ترین پیشرفت یہ حاصل ہوئی ہے کہ ہم نے لبنانی سرزمین پر جارحیت کا بدلہ مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کی سرحد کے اندر گھس کر کارروائی کے ذریعے چکا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں ہم "شعبا فارمز" پر اسرائیلیوں کو جواب دیا کرتے تھے، لیکن آج ہم نے 1948ء میں قائم ہونے والی اسرائیلی سرحدوں، جن کو وہ اپنی "ریڈ لائنز" سمجھتے ہیں، کے اندر گہرائی تک جا کر جوابی کارروائی انجام دی ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اعلان کیا کہ جاری سال کے یکم ستمبر سے ہم اپنے دفاع میں کسی قسم کی کوئی ریڈ لائن تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جو لبنان کا بھلا چاہتے ہیں، اسرائیلیوں کو کہہ دیں کہ وہ زمانہ جب تمہارے ڈرون طیارے لبنان کے آسمان پر پرواز کرکے سلامتی کیساتھ واپس پہنچ جاتے تھے، اب نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی یہ جان لیں کہ ان کے خلاف جو حادثہ بھی رونما ہو رہا ہے، وہ نیتن یاہو کی حماقتوں کا نتیجہ ہے۔
نام:
ایمیل:
* رایے: