
فرانس میں استاد کے قتل واقعے کے بعد اسلام یا شدت پسندی سے مقابلے کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے نشست میں ستائیس یورپی ممالک کے نمایندوں کی شرکت متوقع ہے جو اگلے جمعہ کو منعقد ہورہی ہے۔
امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ شدت پسندی کے نام پر آنے والے دنوں میں فرانس میں مسلمانوں کے لیے حالات مزید سخت ہوں گے ، فرانس کی شدت پسندی قوم پرست پارٹیوں کا خیال ہے کہ فرانس کی حکومت کا اسلامی شدت پسندوں کے خلاف رویہ سست ہے اور میکرون کو مہاجرت اور مسلمانوں کے خلاف سخت رویہ اپنانا ہوگا۔
فرنچ نیوزدویچهوله لکھتا ہے کہ فرانس میں شدت پسندوں اور فرانس حکومت میں کشمکش جاری ہے اور اس جنگ میں مسلمانوں کی اکثریت بھی فرانس حکومت کے ساتھ ہے۔
ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ فرانس میں ۵۷ فیصد مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ شریعت اسلامی کے پابند ہے بہ نسبت فرنچ قوانین کے۔
رپورٹ لکھتا ہے کہ میکرون واحد صدر ہے جو اسلامی شدت پسندی کے خلاف اقدام کررہا ہے اور آنے والے بل کے بعد اسکولوں کے علاوہ مسلم بچوں کو گھروں میں تدریس پر پابندی ہوگی جو اسلامی شدت پسندوں کے لیے خام مال تصور کیا جاتا ہے جبکہ مساجد کے امام کو بھی خصوصی تربیت دی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق اسلامی مراکز اور مدارس کی کڑی نگرانی ہوگی اور انکے مالی اخراجات کو حساب کتاب ہوگا جو شدت پسندانہ تبلیغات میں سرگرم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بائیں بازو کی جماعت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات دین کو سائیڈ لاین کرانے کے مترادف ہے جبکہ دائیں بازو کی جماعت ان اقدامات کو بھی ناکافی قرار دیتی ہے۔