
رپورٹ کے مطابق بوسنیا کے چھوٹے شہر سربرنیٹسا سال ۱۹۹۵ کو قتل عام کا نشانہ بنا جہاں کے جوان یہاں سے ہجرت کررہے ہیں اور بڑے یکدے بعد یگرے دنیا سے رخصت ہورہے ہیں تاہم کچھ لوگ اب بھی یہاں پر زندگی کو رونق بخشنے کی کوششوں مصروف ہیں۔
سربرنیٹسا جو مشرقی بوسنیا میں واقع ہے چھبیس سال پہلے کے ہولناک واقعے کی بولتی تصویر ہے جہاں خونریز واقع ہوا۔
«الویس اسپیودیچ» جو قتل عام کے وقت گیارہ سال کا بچہ تھا کا کہنا ہے انہیں یقین ہے کہ سربرنیٹسا کی رونقیں بحال ہوں گی۔
انکا کہنا تھا: میں پندرہ سال پہلے یہاں پر واپس آیا اور اطمینان تھا کہ شہر کی عظمت بحال ہوگی یہاں پر ہوٹلوں، دکانوں اور بازاروں کی سرگرمی جاری تھی تاہم پچھلے پانچ سال سے حالات کچھ درست نہیں اور شہر نابودی کی طرف جارہا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ جوان اس شہر کو چھوڑ کر جارہے ہیں اور انکا خیال ہے کہ انکا مستنقبل یہاں پر نہیں بن سکتا۔
«سناد ژوزیج» جو سال ۲۰۰۹ کو سربرنیٹسا میں لوٹا ہے کا کہنا ہے کہ سینما یا ہوٹل جو ہر شہر میں ہوتے ہیں یہاں پر نہیں تھے۔
«فادیلا افندیچ» جنکا شوہر اور بیٹا نسل کشی میں مارے گیے تھے کا کہنا ہے کہ حقیقت تلخ ہے یہ لوگ ہیں جو شہر کو شہر بناتے ہیں نہ کہ عمارتیں، لوگ اب بھی خوف و بیم کے ساتھ یہاں رہتے ہیں۔
۱۹۹۵ کو سربرنیٹسا نسل کشی میں آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمان قتل ہوئے تھے جب امن فوج کی موجودگی میں صربوں نے یہ ہولناک واقعہ انجام دیا تھا۔
اس سے پہلے سال ۱۹۹۳ کو سلامتی کونسل نے سربرنیٹسا کو امن کا علاقہ قرار دیا تھا تاہم صرب فورسز نے جنرل راٹکو کی سربراہی میں یہاں پر قبضہ کرکے ظلم کی داستان رقم کی۔
یہاں پر نسل کشی کے وقت ہالینڈ کی فورسز نہ صرف خاموش تماشائی بنی رہی بلکہ گیارہ جولائی کو دو ہزار مسلمانوں کو انہوں نے بھی قتل کردیا، سربرنیٹسا کے پندرہ ہزار لوگ پہاڑوں کی طرف فرار کرگیے مگر صرب فوج نے انکو جنگلوں میں گھیرے میں لیکر مار ڈالا، اب تک ان افراد کی لاشیں ۵۷۰ مقامات سے مل چکی ہیں۔/
.






