اسپورٹس ڈیپلومیسی؛ انسانی حقوق کیس سے فرار کا سعودی حربہ

IQNA

اسپورٹس ڈیپلومیسی؛ انسانی حقوق کیس سے فرار کا سعودی حربہ

8:51 - October 11, 2021
خبر کا کوڈ: 3510404
تہران(ایکنا) انسانی حقوق تنظیم واچ مین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب انسانی حقوق کیس سے بری ہونے اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے اسپورٹس سے فایدہ کی کوشش کررہا ہے۔

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق تنظیم کے نمایندے کے مطابق تین سال پہلے اکتوبر ہی کو صحافی جمال خاشقچی کو دردناک انداز سے قتل کیا گیا جسمیں سعودی حکام کے ہاتھ شامل تھے۔

سعودی ولی عھد محمد بن سلمان نے اس تلخ واقعے کی برسی پر سعودی خزانے سے تین سو ملین پونڈ میں نیوکاسٹل فٹبال کلب کی خریداری کی اور اسکا جشن منایا، اگرچہ نیوکاسٹل کلب کے فین خوشی منارہے ہیں تاہم انسانی حقوق کے نمایندے اس سے ناراضی ہیں۔

 

اسپورٹس ڈیپلومیسی سعودی اسٹریٹجک ہے جس سے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کو کوشش کی جاتی ہے اور نیوکاسٹل کلب کی خریداری سب سے بڑی کاوش قرار دی جاتی ہے جس کا مقصد انسانی حقوق کیس سے لوگوں کے افکار کو ہٹانا ہے۔

 

سعودی عرب اس حوالے سے کروڈوں ڈالر خرچ کرچکا ہے اور اس شعبے میں بوکسنگ، گلف مقابلے

 ( Saudi Invitational Golf Tournament)، ریسلنگ مقابلے (WWE) اور کار ریسنگ مقابلے شامل ہیں۔

 

اسپورٹس ڈیپلومیسی؛ انسانی حقوق کیس سے فرار کا سعودی حربہ

انسانی حقوق تنظیم کے نمایندے کی رپورٹ سعودی انسانی حقوق پر بڑا داغ ہے جن کے جرایم میں بے گناہوں کی گرفتاری، مخالفین کی سرکوبی اور سوشل ایکٹویسٹوں کو زندانوں میں قید کرنا شامل ہے۔

فیفا FIFA جو فٹبال کے حوالے سے ایک عالمی تنظیم شمار ہوتا ہے اس کے قوانین میں انسانی حقوق کی رعایت سرفہرست ہے اور انکے ذمہ داروں کو چاہیے کہ اس حوالے سے باریک بینی سے کام لیں جو بارہا تاکید کرچکے ہیں کہ فٹبال کلب کے خریدو فروخت میں خریداروں کی ماضی کو مدنظر رکھے۔

جو لوگ فٹبال کو ایک خوبصورت کھیل سمجھتے ہیں ان کے لیے نیوکاسٹل کلب کی خریداری خطرے کی گھنٹی ہے جو چاہتے ہیں کہ انکے پسندیدہ کلب کو ایک انسانی حقوق کے مجرم سے جوڑا نہ جائے لہذا برطانوی فٹبال فیڈریشن سے بھی توقع ہے کہ وہ انسانی حقوق کے قوانین کو مدنظر رکھیں گے۔/

4003769

نظرات بینندگان
captcha