وہابیت امریکی سامراج کی خدمت میں

IQNA

وہابیت امریکی سامراج کی خدمت میں

8:07 - December 14, 2021
خبر کا کوڈ: 3510862
یہ نظریہ سیاسی ڈیل کا نتیجہ ہے جو امریکہ نے سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے ساتھ کی اور اسکا مقصد سوویت یونین کے خلاف جنگ میں انکو شکست دینا تھا۔ بن سلمان

ایکنا نیوز کے مطابق 22 مارچ 2018 کو شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے ایک گفتگو کی جس میں انہوں نے چھپے ہوئے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور سلفیوں نے اسے "اسلامی بیداری" کہا۔ بن سلمان نے اعتراف کیا کہ سعودی عرب میں وہابیت کا پھیلاؤ خالصتاً خدا کے لیے نہیں تھا، بلکہ امریکی مطالبے اور ایجنڈے کے تحت تھا اور امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے اسلام کو استعمال کیا گیا۔

(گفتگو کا متن انگریزی اخبار میں مذکور ہے)

 

بن سلمان نے کہا کہ یہ ایک سیاسی ڈیل کا نتیجہ ہے جو امریکہ نے سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے ساتھ کی۔ اور اس انتہا پسند مذہبی نظریے کی مارکیٹنگ صرف سوویت یونین کے خلاف جنگ کی خدمت کے لیے تھی۔ یہ بیان ایک بھیانک اسکینڈل کا انکشاف تھا.. واشنگٹن پوسٹ نے اس اسکینڈل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:- "اب اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ وہابیت کا پھیلاؤ امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے ایک ہتھیار کے سوا کچھ نہیں تھا، اور یہ کہ یہ تمام قرآنی کتابیں، وہ مساجد، سروں پر پٹکے، لمبی لمبی داڑھیاں اور چھوٹے چھوٹے عربی چغے اور شلواریں.... وغیرہ

 

یہ سب کچھ درحقیقت ایک ظاہری میک اپ، ملبوسات اور فلمی کرداروں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جو اسے سرد جنگ کی فلم میں ادا کرنے کی ضرورت تھی!! اور یہ کہ مسلم عوام ایک گندے سیاسی کھیل میں سادہ لوح کٹھ پتلی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا!! " یہ کہانی 27 دسمبر 1979 کو شروع ہوئی، جب امریکی قومی سلامتی کونسل نے صدر جمی کارٹر کے قومی سلامتی کے مشیر Zbigniew Brzezinski کے تحریر کردہ "الحاد کے خلاف افغانستان میں جہاد" کے عنوان سے ایک منصوبے کی منظوری دی۔ فوری طور پر، برزنسکی نے اسلامی ممالک کے رہنماؤں کو اپنے منصوبے پر قائل کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ کا دورہ شروع کیا۔

 

وہابیت امریکی سامراج کی خدمت میں

برزینسکی نے اپنے دورے کے آغاز پر 3 جنوری 1980 کو قاہرہ کا خفیہ دورہ کیا، جہاں اس نے انور سادات سے ملاقات کی، پھر 4 جنوری کو سعودی عرب کے شاہ خالد سے جدہ میں ملاقات کی، اور پھر 5 جنوری کو اسلام آباد، پاکستان میں صدر ضیاء الحق سے ملاقات کی۔ ..

محمد حسنین ہیکل اپنی کتاب Unholy wars کے صفحے نمبر 31 پر لکھتے ہیں کہ Brzezinski نے ان ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ "ملحد" سوویت یونین کے خلاف جنگ میں قائدانہ کردار ادا کریں، جس نے ایک اسلامی ریاست پر حملہ کیا ہے۔ Brzezinski اپنے ساتھ ایک تفصیلی منصوبہ لے کر گیا جس میں اس نے اس جنگ میں ہر ملک کے کردار کی بھی وضاحت کی۔ مثال کے طور پر وہ ممالک جو مالی امداد فراہم کریں گے اور وہ ممالک جو جنگجوؤں کی بھرتیاں اور تربیت دیں گے وغیرہ۔

 

عجیب بات یہ ہے کہ یہودی "برزینسکی" اس طرح بول رہا تھا جیسے جیسے اسلام کا سارا درد اسے ہی ہو اور اسے اسلام کے مستقبل کا بہت احساس ہے!۔ اس سفر میں برزنسکی عرب رہنماؤں کو راضی کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

نظرات بینندگان
captcha