
ایکنا نیوز کے مطابق اسلامی مالیاتی ضروریات زندگی کے اہم امور میں شامل ہے جہاں اخلاقی بنیادوں کے ساتھ ایک بڑی مسلم آبادی کو ایک مخصوص اسلامی نظام کے ساتھ موجودہ دنیا سے ہم آہنگ کرانا ہے۔
اسلامک فایننسنگ سسٹم ترقی کے لیے مختلف چینلجز کا سامنا کررہا ہے جنمیں سے اہم ترین مسئلہ اس شعبے میں مخصوص ماہرین کی کمی ہے اسی طرح ایک اور بڑا مسئلہ خواتین لیبر کی کمی بھی قابل توجہ ہے۔
اگرچہ بعض اسلامی ممالک میں خواتین نے تعلیم کے میدان میں کافی ترقی کی ہیں اور اسی طرح اسلامک مالیاتی نظام میں بھی وہ کافی پیشرفت کرچکی ہیں تاہم اب بھی مطلوبہ معیار سے کافی دور ہیں حالانکہ اسلامی نظام میں اس حوالے سے کوئی محدودیت نہیں اور روایات کے مطابق اسلام میں حضرت خدیجه(س)، زوجہ رسول اسلام(ص) اس وقت ایک معروف تاجر کے طور پر کامیاب کاروبار کررہی تھیں۔
یعنی اس بہانے کے حجاب اسلامی مالیاتی نظام میں خواتین کے لیے رکاوٹ ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں اور یہ تاریخ سے ثابت شدہ ہے۔
زتی اختر عزیز (Zeti Akhtar Aziz) سال ۲۰۰۰ سے ۲۰۱۶ ملایشین مرکزی بینک کی سربراہ رہی ہے اور پہلی خاتون ہے جو اس پوسٹ پر پہنچی ہے۔
اسٹارٹاپ اسلامی رزق (Rizq) ویب سایٹ خؤاتین کے اسلامک فاننسنگ سسٹم میں موجودگی بارے اسلامی فن ٹیک financial tech کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھتا ہے: مالیاتی نظام میں خواتین کا کردار دیگر شعبوں سے جدا نہیں اور تاریخ اسلامی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ سیاست سے لیکر میڈیکل مالیاتی نظام سب میں مردوں پر تاکید نہیں بلکہ سب کرسکتے ہیں۔
4082820