ایکنا نیوز، الجزیرہ نیوز نے رپورٹ دی ہے کہ والنتینا گومز، جو ٹیکساس سے کانگریس کے انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار ہیں، نے نفرت انگیز اقدام کرتے ہوئے اپنے ایک ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری کیا جس میں وہ قرآن پاک کو آگ لگا رہی ہیں۔
گومز نے قرآن کریم کی بےحرمتی کے دوران وعدہ کیا کہ اگر وہ کانگریس کے انتخابات میں کامیاب ہوئیں تو ٹیکساس میں اسلام کی موجودگی کا خاتمہ کر دیں گی۔
یہ اسلام دشمن شخصیت، جو اپنے سیاسی کیریئر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا ریکارڈ بھی رکھتی ہیں، نے دعویٰ کیا کہ مسلمان مسیحی ممالک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس امریکی کانگریس امیدوار نے اس نفرت انگیز ویڈیو کے ناظرین سے مطالبہ کیا کہ وہ کانگریس کے انتخابات میں ان کی کامیابی کے لیے مدد کریں۔
اس انتہا پسند دائیں بازو کی سیاستدان کے اقدام کی سیاسی رہنماؤں، مذہبی گروہوں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید مذمت کی ہے، اور اس نے 2026 کے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے قریب تعصب اور نفرت پھیلنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
گومز اس سے پہلے بھی شہرت حاصل کرنے کے لیے نفرت انگیز اقدامات کر چکی ہیں۔ دسمبر 2024 میں انہوں نے نیویارک میں ایک نمائشی اقدام کے دوران ایک پُتلے پر، جو مہاجرین کی علامت تھا، فائرنگ کی اور ان مہاجرین کی عوامی سزائے موت کا مطالبہ کیا جن پر پرتشدد جرائم کا الزام تھا۔ بعد ازاں یہ ویڈیو ہٹا دی گئی اور ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بند کر دیا گیا۔
ان متنازعہ اقدامات کے باوجود، گومز گزشتہ انتخابات میں ناکام رہیں اور ریپبلکن پارٹی کے اندرونی مقابلے میں صرف 7.4 فیصد ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر آئیں۔
انہوں نے 2024 میں میسوری کے وزیرِ امورِ ریاستی کے عہدے کے لیے بھی انتخاب لڑا اور اس وقت سے وہ انتہا پسند اور نفرت انگیز اقدامات کے ذریعے عوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔/
4301813