یمن میں تعلیم کی نابودی میں امریکی جاسوسوں کا کردار

IQNA

یمن میں تعلیم کی نابودی میں امریکی جاسوسوں کا کردار

6:58 - August 30, 2025
خبر کا کوڈ: 3519066
ایکنا: امریکہ کی یمن کی وزارتوں اور سرکاری اداروں میں نفوذ کی کوششوں میں وزارتِ تعلیم بھی شامل رہی، جسے مختلف پروگراموں اور منصوبوں کے ذریعے نافذ کیا گیا، جو بظاہر یمن میں تعلیمی ترقی کے لیے مالی امداد کے طور پر پیش کیے گئے تھے۔

ایکنا نیوز- المسیرہ میں عباس القاعدی کی ایک رپورٹ میں امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کی جانب سے یمن کے نظامِ تعلیم میں مداخلت اور اسے تباہ کرنے کی پالیسی کا جائزہ لیا گیا ہے۔

امریکہ نے یمن کی وزارتوں اور سرکاری اداروں میں رسائی حاصل کرنے اور انہیں تباہ کرنے کی کوشش کی، اور ان کی پالیسیوں کو امریکی و صہیونی مفادات اور منصوبوں کی خدمت کے لیے استعمال کیا۔ ان کوششوں کا ایک بڑا ہدف وزارتِ تعلیم تھی، جہاں منصوبے اور پروگرام بطور امداد متعارف کرائے گئے تاکہ تعلیم کے نام پر دراصل یمن کے تعلیمی ڈھانچے کو کھوکھلا کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ امریکہ اور یورپ کی مالی اعانت و حمایت کے ساتھ امریکی حکمتِ عملی کے مطابق نافذ کیا گیا تاکہ تعلیم کو اس کے اصل مقصد اور مواد سے خالی کر دیا جائے۔

تعلیم کی تباہی میں عالمی بینک کا کردار

عالمی بینک نے 1997 میں امریکہ کی اس حکمتِ عملی کے تحت یمن کے تعلیمی حالات کا مطالعہ کیا اور "پروگرام برائے ترقی تعلیمِ بنیادی" کے عنوان سے ایک منصوبہ ترتیب دیا۔ اس پروگرام کے لیے تقریباً 60 ملین ڈالر کا قرض فراہم کیا گیا اور یہ بالخصوص دیہی علاقوں کی طالبات کو ہدف بناتے ہوئے گمراہ کن اور غلط تصورات کو ’’تعلیمی سہولیات تک رسائی اور بااختیار بنانے‘‘ کے نام پر پھیلانے کے لیے نافذ کیا گیا۔

1980 کی دہائی کے اوائل سے ہی صنعا میں امریکی سفارت خانہ جاسوسوں اور خائنین کے ذریعے مختلف پروگراموں اور منصوبوں کو ’’تعلیمی ترقی‘‘ کے نام پر نافذ کرتا رہا تاکہ یمن کے تعلیمی نظام کو تباہ کیا جا سکے۔ ان منصوبوں میں نمایاں ترین اقدامات وزارتِ تعلیم اور فیکلٹی آف ایجوکیشن کے اساتذہ کو بیرونِ ملک بھیجنا، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی تھیسز میں مداخلت، اور نصاب کو امریکی مفادات کے مطابق ڈھالنا شامل تھے۔ ان میں سب سے خطرناک منصوبہ ابتدائی تین جماعتوں کے لیے یکساں درسی کتابوں کی تیاری تھا تاکہ طلبہ کو کم علم اور تعلیم سے بددل کیا جا سکے اور اسکولوں کو ’’تعلیم سے محرومی‘‘ کے مراکز میں بدلا جا سکے۔

اسی سلسلے میں اگست 2000 میں یمن کے سابقہ غدار حکومت نے عالمی بینک کے پیش کردہ ’’ترقی تعلیمِ بنیادی‘‘ منصوبے کو منظور کیا۔ یہ منصوبہ، جس کی لاگت 120 ملین ڈالر تھی، برطانیہ اور ہالینڈ کی وزارت برائے بین الاقوامی ترقی کے تعاون سے نافذ ہوا۔ اگرچہ بظاہر اس کا مقصد اسکولوں کی مرمت تھا، لیکن درحقیقت یہ امریکی حکمتِ عملی کے تحت بنیادی تعلیم کی تباہی کا آغاز تھا، جسے اس وقت کی یمنی حکومت نے منظور کر لیا۔

 
نقش جاسوسان آمریکا برای نابودی آموزش در یمن

 

2004 میں ایک شراکتی معاہدہ کیا گیا جس کے تحت یمن کی حکومت، عالمی بینک، یونیسف، عالمی ادارہ خوراک، آئی ایل او، یونسکو، جرمنی، برطانیہ، ہالینڈ، فرانس اور یورپی یونین نے تعلیمِ بنیادی کے خاتمے کی اس حکمتِ عملی پر تعاون کیا۔ اس منصوبے کا مقصد تمام عطیہ دہندگان کے وسائل کو یکجا کرنا اور انہیں یمن کے نظامِ تعلیم کی تباہی کے لیے بروئے کار لانا تھا۔ اس شراکت داری کے نتیجے میں امریکہ کی حکمتِ عملی کو بڑی حمایت ملی اور عملی طور پر اس میں خاطر خواہ پیشرفت بھی ہوئی۔

2002 میں یمنی حکومت نے تعلیم کو ہر سطح پر، ابتدائی سے اعلیٰ تعلیم تک، تباہ کرنے کے لیے چھ مختلف حکمتِ عملیاں اپنائیں، جو براہِ راست امریکی مفادات سے منسلک تھیں۔ یہ پالیسی 2003 سے 2015 تک نافذ رہی۔

سی آئی اے کا یمنی تعلیمی اداروں میں نفوذ

یمن کی وزارتِ تعلیم نے امریکی حکمتِ عملی کے اہداف کو عملی منصوبے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی اور ’’ترقیاتی شراکت داروں‘‘ کی حمایت کے لیے ایک فریم ورک بنایا۔ اسی مقصد کے تحت 1980 کی دہائی سے امریکی خفیہ ایجنسی (CIA) یمن کے تعلیمی اداروں میں رسوخ پیدا کرنے اور ان کے بنیادی کردار کو مفلوج کرنے کی کوشش کرتی رہی، تاکہ یمنی معاشرے کو جاہل اور فرمانبردار بنا کر امریکی تسلط کے تابع کر دیا جائے اور اسے فیصلہ سازی میں غیر خودمختار بنایا جائے۔ اس حقیقت کی تصدیق ان جاسوسی نیٹ ورکس کے انکشافات سے ہوئی جنہیں یمنی سیکیورٹی اداروں نے گرفتار کیا تھا اور جن کا تعلق امریکہ و اسرائیل سے تھا۔

 
نقش جاسوسان آمریکا برای نابودی آموزش در یمن

 

سی آئی اے نے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے ابتدا ہی سے یمن کے تعلیمی عمل، خاص طور پر نصاب سازی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ 1990 کے بعد سے امریکہ سے وابستہ دفتر EDC نے اردن سے یمن کی ابتدائی جماعتوں (پہلی تا تیسری) کی کتابوں کی تیاری کی نگرانی کی اور امریکی تصورات و خیالات کو نصاب کے ذریعے منتقل کیا۔ اس کا مقصد تعلیم کو مسخ کرنا اور اسے خالی از مواد بنانا تھا۔

امریکی منصوبے اور ’’ابتکاری تیز رفتار‘‘ پروگرام

اپریل 2002 میں واشنگٹن نے ’’ابتکاری تیز رفتار‘‘ منصوبہ شروع کیا، جو بظاہر ترقی پذیر اور مغربی ممالک کا مشترکہ تعلیمی اقدام تھا، لیکن اس کا مقصد امریکی اہداف کو 2015 تک یمن میں نافذ کرنا تھا۔

تیز رفتار آبادی کے باعث یمن کو تعلیمی بجٹ کی ضرورت تھی۔ اسی لیے حکومت نے ’’ترقی تعلیمِ بنیادی‘‘ اور ’’غربت میں کمی‘‘ کے عنوان سے منصوبے تیار کیے، جنہیں اکتوبر 2002 میں برسلز میں پیش کیا گیا اور 2003 میں پیرس کے ڈونرز اجلاس میں منظور کیا گیا۔

2004 میں یمن کی سابقہ غدار حکومت نے امریکہ سے 10 ملین ڈالر وصول کیے تاکہ ’’ابتکاری تیز رفتار‘‘ منصوبے کے تحت بنیادی تعلیم کو تباہ کیا جائے، خاص طور پر صوبوں البیضاء، ذمار، الحدیدہ اور حجہ میں۔ اس کے علاوہ الجوف، شبوہ اور لحج کو بھی اس امداد میں شامل کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں تاکہ منصوبے کے نفاذ کو آسان بنایا جا سکے۔

اسی سال امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی (USAID) نے ’’بنیادی تعلیم کی بہتری‘‘ کے نام سے ایک منصوبہ شروع کیا جس پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے۔ اس کی نگرانی امریکی انٹیلی جنس افسر جان رالی نے کی، جس نے وزارتِ تعلیم یمن، جرمنی، برطانیہ، ہالینڈ اور سعودی عرب کے سفیروں کے ساتھ اجلاس بھی منعقد کیے۔

 
نقش جاسوسان آمریکا برای نابودی آموزش در یمن

امریکی استراتیجی اور پوشیدہ اہداف

امریکی ’’اسٹراٹیجی برائے اصلاح و ترقی تعلیمِ بنیادی‘‘ کے تحت یمن کے نصاب میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں جن کے پس پردہ خطرناک اہداف تھے، جیسے:

تعلیم و تربیت کو کمزور کرنا اور نگرانی کا نظام تباہ کرنا۔

نصاب میں جنسی اصطلاحات، غیر ملکی تہذیبی علامتیں اور مغربی تہوار شامل کرنا۔

ایسے مضامین شامل کرنا جو طلبہ کے لیے پیچیدہ ہوں تاکہ وہ ابتدائی تعلیم ہی میں کمزور ہو جائیں۔

مذہبی مضامین، خاص طور پر توحید اور قرآن کے اسباق کو محدود کرنا۔

قرآن کی بعض آیات کو حذف کرنا جنہیں ’’مذہبی اختلافات بھڑکانے والی‘‘ قرار دیا گیا۔

جغرافیائی مضامین میں ایسے تصورات شامل کرنا جو طلبہ کو اسلامی تاریخ، خصوصاً نبی اکرم ﷺ کے غزوات اور یہودیوں کے خلاف جنگوں سے دور کر دیں۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی راہ ہموار کرنا۔

یہ تمام خطرناک منصوبے 21 ستمبر کی انقلابی تحریک (انصار اللہ) کے ذریعے سید عبدالملک الحوثی کی قیادت میں بڑی حد تک ناکام بنائے گئے۔

عالمی بینک اور مالی معاونت

2009 میں عالمی بینک نے وزارتِ تعلیم یمن کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ’’مرحلہ سوم ابتکاری تیز رفتار‘‘ کے لیے 20 ملین ڈالر دیے۔ یہ رقم صوبوں لحج، ذمار، ریمہ، الحدیدہ اور البیضاء میں تعلیم تباہ کرنے کے منصوبوں پر خرچ کی گئی۔ اس وقت کے وزیرِ تعلیم عبدالسلام الجوفی نے اعتراف کیا کہ یہ تیسرا معاہدہ ہے جس کے تحت یمن نے عالمی بینک سے مالی امداد حاصل کی اور امریکی منصوبوں کو پوری طرح نافذ کیا۔

یہ امریکی منصوبے اور اسٹریٹجیز، جو عالمی بینک، یو ایس ایڈ اور دیگر اداروں کے ذریعے مالی معاونت حاصل کرتے تھے، یمن میں تعلیم کو تباہ کرنے کے لیے نافذ کیے گئے۔ ان کے اثرات واضح تھے:

ابتدائی طلبہ میں پڑھنے اور لکھنے کی کمزوری۔

اعلیٰ تعلیم کی سطح پر یونیورسٹیوں میں تعلیمی زوال۔

اسکولوں میں مغربی و امریکی ثقافت کا پھیلاؤ۔

کئی سرکاری اور نجی اسکولوں کو مغربی ثقافت پھیلانے کے مراکز میں بدل دیا گیا۔

یہ سب کچھ ’’ترقی‘‘ اور ’’تعلیم کی بہتری‘‘ کے نام پر کیا گیا، جبکہ درحقیقت یہ یمنی معاشرے کو علمی و فکری لحاظ سے تباہ کرنے کا منصوبہ تھا۔/

 

4300062

ٹیگس: یمن ، امریکی ، تعلیم
نظرات بینندگان
captcha