ایران اور ملایشیاء میں علمی ثقافتی تعاون پر تاکید

IQNA

آیت‌الله اعرافی کا دورہ ملایشیاء

ایران اور ملایشیاء میں علمی ثقافتی تعاون پر تاکید

6:18 - August 31, 2025
خبر کا کوڈ: 3519071
ایکنا: آیت‌الله اعرافی اور آیت‌الله مبلغی کا سفر ایران اور ملائیشیا کے دیرینہ علمی و دینی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے، اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار کو وحدتِ امت مسلمہ میں نمایاں کرنے اور مظلومین کی حمایت کے لیے کیا گیا۔

ایکنا نیوز کے مطابق، ایران کے ثقافتی سفیر برائے ملائیشیا، حبیب‌رضا ارزانی نے بتایا کہ ایرانی وفد نے دینی رہنماؤں کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے یہ سفر کیا۔ آیت‌الله علیرضا اعرافی، ؑڈائریکٹر حوزه‌های علمیه ایران، آیت‌الله احمد مبلغی، رکن مجلس خبرگان رهبری کے ہمراہ تین روزہ دورے پر کوالالمپور پہنچے تاکہ دوسرے بین‌المللی اجلاسِ رهبران دینی میں شریک ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس سفر میں علمی، ثقافتی اور دینی نشستوں میں شرکت بھی شامل تھی، جو ایران اور ملائیشیا کے معرفتی و دینی رشتوں کو تقویت دینے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اتحادِ امت مسلمہ میں کردار کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا۔

ارزانی نے بتایا کہ دورے کے پہلے دن آیت‌الله اعرافی نے ملائیشیائی دانشوروں، ایرانی مقیمین اور اہلِ علم سے خطاب کیا اور اسلام کے تین موجودہ رویوں ـ اسلامِ ارتجاعی، اسلامِ لیبرل اور اسلامِ اصیل (قرآن، سنت، عقل اور اجتہاد پر مبنی) ـ کی وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام انہی اصولوں پر قائم ہے اور امام خمینیؒ کا پیش کردہ اسلام معاصر انسان کی ضروریات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امت مسلمہ کی سب سے بڑی ضرورت "اسلامی شناخت کا اتحاد" ہے۔ ملکوں کی نسبت سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ہم سب ایک ہی امت ہیں۔ آیت‌الله اعرافی نے غزہ کے مظلوم عوام کے مصائب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد علما، علمی و ثقافتی شخصیات کو جمع کرنا ہے تاکہ غزہ کے مسائل کا حل سوچا جائے اور اس سے وحدتِ امت مسلمہ کی راہ ہموار ہو۔

ثقافتی سفیر نے کہا کہ اس موقع پر چیگو عزمی، صدر مرکز دینی ماپیم، نے بھی عالمِ اسلام کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اور دینی رہنماؤں کے باہمی تعاون پر زور دیا۔ اسی موقع پر استاد شہید مرتضیٰ مطہری کی کتاب "هدف زندگی" کے مالائی ترجمے کی رونمائی بھی کی گئی، جو ایران کے ثقافتی رایزنی اور انتشارات IBDE کے تعاون سے شائع ہوا۔

دوسرے دن آیت‌الله اعرافی اور آیت‌الله مبلغی نے ملائیشیا کے وزیراعظم کی دعوت پر دوسرے بین‌المللی اجلاس "قیادت الدینیہ" میں شرکت کی، جس میں 54 ممالک کے ایک ہزار سے زائد ممتاز مذہبی شخصیات شریک تھیں۔ اجلاس کا آغاز محمد رضوان، 65 ویں ملائیشیائی قرآن کریم مقابلے کے اوّل نمبر قاری کی تلاوت سے ہوا۔ اجلاس کے مرکزی موضوعات میں:

عالم اسلام کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال،

موجودہ چیلنجز اور بحرانوں پر فکری ہم آہنگی،

غزہ و فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی مدد،

دینی وفود کے تبادلے اور علمی و تعلیمی تعاون،

تنازعات کے حل اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ میں ادیان کا کردار شامل تھے۔

اس اجلاس میں آیت‌الله اعرافی اور آیت‌الله مبلغی نے "غزہ اور عالمی تنازعات کے حل" کے موضوع پر دو تخصصی نشستوں کی صدارت بھی کی اور مذہبی رہنماؤں کے کردار کو نزاعات اور تشدد کے خاتمے میں کلیدی قرار دیا۔

مزید یہ کہ ایرانی وفد نے محمد نعیم مختار، وزیر امور دینی ملائیشیا، سے ملاقات کی اور دینی و تعلیمی تعاون، وفود کے تبادلے اور قرآنی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلۂ خیال کیا۔ وزیر امور دینی نے بتایا کہ ملک میں 14 ریاستی مفتیانِ کرام موجود ہیں اور ایران و ملائیشیا کے قرآنی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

وفد نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے بھی ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا: "ہم ادیان کے رہنماؤں کے ساتھ صلح اور ہم آہنگی چاہتے ہیں اور اسی راستے سے امن کا آغاز کریں گے۔"

ایرانی وفد نے مسجد ولایت میں نمازِ جمعہ میں بھی شرکت کی اور کوالالمپور کے مفتی سے دینی، تعلیمی اور ثقافتی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے رابطۃ العالم الاسلامی (اتحاد عالم اسلام) کے سربراہ عبدالکریم العیسی سے بھی ملاقات کی۔

دورے کے ضمنی پروگراموں میں بین‌المللی شخصیات اور ملائیشیاء کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں، ایستک (مرکز دینی و تمدنی) جیسے علمی مراکز کا دورہ، ایرانی مقیمین اور اسلامی و انسانی علوم کے ماہرین سے ملاقاتیں شامل تھیں۔/

 

4302336

نظرات بینندگان
captcha