
ایکنا نیوز، maktoobmedia نیوز کے مطابق، بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ آپریشن ناگاؤن کے علاقے میں جنگل کی 795 ہیکٹر زمین کو صاف کرنے کے مقصد سے انجام دیا جا رہا ہے۔
یہ کارروائی ہفتہ کی صبح لُٹی ماری علاقے میں سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کے تحت شروع کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق 1100 سے زیادہ خاندان پہلے ہی اپنے گھر چھوڑ کر جا چکے تھے جبکہ باقی گھروں کو بلڈوزروں کی مدد سے منہدم کر دیا گیا۔
تین ماہ قبل متعلقہ خاندانوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ماہ میں علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس کی مدت بعد ازاں درخواست پر کچھ وقت کے لیے بڑھا دی گئی۔ ہیمانتا بسوا سرما، وزیراعلیٰ آسام نے اس کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے گھروں کے انہدام کی ویڈیو بھی جاری کی اور لکھا: آج لُٹی ماری محفوظ جنگلاتی علاقے میں 1441 غیر قانونی تعمیرات کو کسی مزاحمت کے بغیر صاف کردیا گیا۔ کل آخری 13 گھروں اور باغات کے انہدام کے لیے واپس آئیں گے۔
انسانی حقوق کے کئی گروہ اور کارکن پہلے بھی بنگالی نژاد مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے پر شدید تشویش ظاہر کر چکے ہیں۔ یہ کارروائی آسام حکومت کی جانب سے کی جانے والی ان متعدد بے دخلی مہمات میں تازہ ترین اقدام ہے جن کا زیادہ تر نشانہ مسلمان ہیں۔
اسی ماہ کے آغاز میں بھی آسام کے علاقے گولپارا میں بلڈوزر آپریشن کیا گیا تھا جس میں کئی املاک منہدم کی گئیں اور تقریباً 580 خاندان بے گھر ہوگئے۔/
4320166