
ایکنا نیوز، فلسطینی مرکزِ اطلاعات کے مطابق، تحریکِ جہادِ اسلامی فلسطین کے ترجمان محمد الحاج موسیٰ نے اپنے بیان میں مذاکرات کی صورتحال اور صہیونی حکومت کے وزیرِ اعظم کی جانب سے پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کی مختلف جہتوں کی وضاحت کی ہے۔
انہوں نے جمعہ کی شب کہا کہ بنیامین نیتن یاہو اس امید میں تھے کہ اسرائیلی قیدیوں کی لاشوں کی حوالگی کا عمل ناکام ہو جائے، تاکہ وہ اس ناکامی کو بہانہ بنا کر دوبارہ فوجی جارحیت کا آغاز کریں اور اس طرح معاہدے کو تعطل کا شکار بنا دیں۔
الحاج موسیٰ نے تل ابیب کے وزیرِ اعظم کے حالیہ دورۂ واشنگٹن کے نتائج کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا اور نہ ہی انہیں اس مرحلے کو قبول کرنے پر مجبور کیا۔
ترجمانِ جہادِ اسلامی نے آخر میں صہیونی رژیم کے حوالے سے حکمتِ عملی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت کی کنجی صرف اور صرف بین الاقوامی دباؤ ہے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا: غزہ کے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی کا کوئی راستہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قابض قوتوں پر حقیقی دباؤ نہ ڈالا جائے۔ ان کے بقول، اس دباؤ کے بغیر موجودہ تعطل سے نکلنا اور معاہدے کے آئندہ مراحل تک پہنچنا ممکن نہیں ہو گا۔/
4326624