
ایکنا نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہبت اللہ آخوندزادہ اپنے چند اعلیٰ طالبان کمانڈروں کے ہمراہ کابل میں اس گروہ کے ایک مرکز پر پاکستان کے فضائی حملے میں مارے گئے۔
تاہم ان اطلاعات کی ابھی تک سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ Afghan Times نے ایک اور پوسٹ میں مزید کہا ہے کہ اگرچہ ملا ہبت اللہ کی ہلاکت کی تصدیق ممکن نہیں، لیکن اب تک ان سے کوئی رابطہ بھی قائم نہیں ہو سکا۔
مولوی ہبت اللہ طالبان کی حکومت کے دوران اور اس سے قبل نائب اور پھر رہنما بننے سے پہلے قاضی القضات کے منصب پر فائز رہے اور طالبان کی بہت سی فتوائیں انہی کی جانب سے جاری کی جاتی تھیں۔ طالبان میں اعلیٰ ذمہ داری سنبھالنے سے قبل وہ پاکستان کے شہر کوئٹہ کے قریب ایک مسجد میں تدریس اور وعظ و نصیحت کا کام کرتے تھے۔
پاکستان اور افغانستان نے جمعرات کی رات سے ایک بار پھر، رواں سال اکتوبر کے بعد دوسری مرتبہ، اپنی مشترکہ سرحدوں پر خونریز اور غیر معمولی جھڑپوں کا سامنا کیا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے افغانستان کے بعض سرحدی علاقوں میں کیے گئے فضائی حملوں کے بعد سامنے آئی، جن میں مبینہ طور پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسلام آباد کے دعوے کے مطابق ان کارروائیوں میں سینکروں جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔/
4337140