
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی muslimmirror نے نقل کیا ہے، ایک مسلمان معلمہ کی شکایت نے بھارت کے تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر مذہبی امتیاز کے حوالے سے بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔
مسلم خاتون استاد سمرین بانو کا کہنا ہے کہ انہیں ریاست اتر پردیش کے شہر وارانسی میں ایک تربیتی کورس شروع کرنے کے چند دن بعد حجاب کی وجہ سے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
بانو نے انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو میں مسلمان اساتذہ کو درپیش مشکلات پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “آج کے دور میں ایک نئی مسلمان معلمہ کے لیے پیشہ ورانہ ترقی حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر موجود تعصب والدین کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مسلمان اساتذہ کے پاس بھیجیں۔ بانو کے مطابق: “آپ کہیں بھی جائیں، چاہے آزمائشی کلاس ہو یا انٹرویو، صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے آپ کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے ذہنوں میں خوف اور تعصب بھر دیا جاتا ہے، جس سے ان کی تعلیم و تربیت مشکل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک استاد ایسے بچے کو کیسے تعلیم دے سکتا ہے جو کلاس میں داخل ہوتے ہی اس سے نفرت کرنے لگے۔
بانو نے اس بات پر زور دیا کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتی ہیں اور کبھی اپنے عقائد دوسروں پر مسلط نہیں کرتیں۔
9 مئی کو انہوں نے ایک اور ویڈیو شیئر کی جس میں بتایا کہ بنارس کے بدھا پبلک اسکول نے ان سے مطالبہ کیا کہ یا تو وہ حجاب اتار دیں یا ادارہ چھوڑ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرویو کے دوران ایسی کوئی شرط بیان نہیں کی گئی تھی۔
بانو نے اسکول پر بھارتی آئین کی دفعات 19 اور 25 کے تحت حاصل اپنی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور اس واقعے کو “مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا” قرار دیا۔/
4351555