حكایت «قرآن مکه»؛ خطی نسخے سے اشاعت تک

IQNA

حكایت «قرآن مکه»؛ خطی نسخے سے اشاعت تک

7:37 - June 01, 2026
خبر کا کوڈ: 3520278
مصحفِ مکہیا "قرآنِ مکہ" سعودی عرب کا پہلا قومی مطبوعہ قرآن تھا، جس کی اشاعت مملکت میں قرآنِ کریم کی خدمت کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل سمجھی جاتی ہے۔

ایکنا نیوز- خبررساں نیوز ایجنسی الریاض کے مطابق، سعودی عرب کے بانی فرمانروا ملک عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود قرآنِ کریم کو تعلیم اور طرزِ زندگی کی بنیاد قرار دیتے تھے اور اس کی اشاعت و ترویج کو خصوصی اہمیت دیتے تھے۔

اسی پس منظر میں سعودی عرب کے پہلے مطبوعہ قرآن کا تصور سامنے آیا۔ اس قرآن کو ممتاز خوشنویس شیخ محمد طاہر الکردی نے کتابت کیا تھا، جو اپنے دور کے نامور خطاطانِ قرآن میں شمار ہوتے تھے۔

علمی نگرانی اور نظرِ ثانی

بنیاد ملک عبدالعزیز کے ریکارڈ کے مطابق اس مصحف کا جائزہ لینے اور اس کی تصحیح کے لیے ایک سرکاری علمی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں مکہ مکرمہ کے ممتاز علماءِ قراءات شامل تھے۔

اس کام کی نگرانی اُس وقت کے ادارۂ تحقیقاتِ علمی، افتاء، دعوت و ارشاد نے کی تاکہ قرآنی متن کی صحت، رسم الخط کی درستگی اور اعراب و علامات کی مطابقت کو یقینی بنایا جا سکے۔

حكایت «مصحف مکه»؛ از دست‌نویسی تا چاپ

 

شاہ فیصل کی سرپرستی

کتابت اور نظرثانی کے مراحل مکمل ہونے کے بعد یہ مصحف ملک فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کے سامنے پیش کیا گیا، جو اُس وقت حجاز کے نائب السلطنت تھے۔ انہوں نے اس منصوبے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے اس کی طباعت جاری رکھنے کی ہدایت دی۔

پہلی اشاعت

سن 1369 ہجری قمری (1950ء) میں اس مصحف کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا، جو سعودی عرب کی تاریخ میں ایک یادگار واقعہ تھا۔ اس کا ایک نسخہ ملک عبدالعزیز کو پیش کیا گیا جبکہ دیگر نسخے ان کے فرزندوں اور متعدد علماء میں تقسیم کیے گئے۔

مصحف کے سرورق پر درج تھا کہ مصحفِ مکہ، محمد طاہر الکردی کی کتابت میں، جو مکہ کے محکمہ تعلیم میں خطاطی کے استاد تھے، کمپنی 'مصحفِ مکہ' کے خرچ پر اور ملک عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں شائع کیا گیا۔

حكایت «مصحف مکه»؛ از دست‌نویسی تا چاپ

 

قرآنی خدمت کا سنگِ میل

یہ اشاعت محض قرآن کی روایتی طباعت نہیں تھی بلکہ سعودی عرب میں قرآنِ کریم کی خدمت کے ایک نئے دور کا آغاز تھی۔ "مصحفِ مکہ" ریاست کے ابتدائی ترقیاتی مراحل میں سعودیوں کے ہاتھوں شائع ہونے والا پہلا قرآن تھا اور اس نے مستقبل میں قرآنی اشاعت کے وسیع منصوبوں کی بنیاد رکھی۔

اس مصحف کی کاپیاں برسوں تک حجاج اور عمرہ زائرین میں تقسیم کی جاتی رہیں، جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں تک قرآنِ کریم پہنچانے کی سعودی کوششوں کو تقویت ملی۔

بعد ازاں یہی کاوش ایک وسیع تر شکل اختیار کر گئی اور مجمع ملک فہد برائے طباعتِ قرآن کریم کے قیام پر منتج ہوئی، جو آج دنیا بھر میں مختلف زبانوں میں قرآنِ کریم کے لاکھوں نسخے شائع اور تقسیم کر رہا ہے اور قرآنِ کریم کی عالمی خدمت کے اسی مشن کو آگے بڑھا رہا ہے۔/

 

4355088

ٹیگس: مکہ ، مصحف ، خطی نسخہ
نظرات بینندگان
captcha