قرانی نسل کی پرورش کے لیے کوسوو کی بہنوں کی کاوش

IQNA

قرانی نسل کی پرورش کے لیے کوسوو کی بہنوں کی کاوش

7:25 - June 01, 2026
خبر کا کوڈ: 3520276
ایکنا: کوسوو کے دارالحکومت پریشتینا میں دو بہنوں نے کئی سالہ محنت اور لگن کے ذریعے سینکڑوں بچوں کو قرآنِ کریم کی ناظرہ اور حفظ کی تعلیم دی اور ان کے ساتھ فنونِ لطیفہ، تخلیقی سرگرمیوں اور سماجی تربیت کو بھی شامل کیا ہے۔

ایکنا نیوز- خبررساں ادارے "مسلمون حول العالم" کے مطابق پریشتینا میں رینیتا نیتای اور فاطمہ نیتای اسلامی تعلیم و تربیت کے میدان میں نمایاں نمونوں کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے قرآنِ کریم سے اپنی محبت اور وابستگی کو ایک مؤثر تعلیمی منصوبے میں تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں بچوں کی تعلیم و تربیت ممکن ہوئی اور حافظِ قرآن اور قرآن سے محبت رکھنے والی نئی نسل کی پرورش کا راستہ ہموار ہوا۔

یہ کامیابی اتفاقی نہیں تھی بلکہ علومِ قرآنی میں برسوں کی تعلیم اور تخصص کا نتیجہ تھی، جس کے بعد انہوں نے "حافظانِ کوچک قرآن" (چھوٹے حافظانِ قرآن) کے نام سے ایک اکیڈمی قائم کی، جو آج کوسوو میں بچوں کے لیے قرآنی تعلیم کی نمایاں ترین کاوشوں میں شمار ہوتی ہے۔

یہ دونوں بہنیں ایک قرآنی ماحول میں پروان چڑھیں اور انہوں نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز پریشتینا کے علاء الدین اسلامی ہائی اسکول سے کیا، جو اسلامی کمیونٹی آف کوسوو کے زیرِ انتظام ہے۔ وہاں انہوں نے علومِ قرآنی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور مقامی و علاقائی قرآنی مقابلوں میں کوسوو کی نمائندگی بھی کی۔

بعد ازاں انہوں نے پریشتینا کی فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز سے اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ سن 2024 میں انہوں نے جامعہ الازہر سے قرآنِ کریم کی قراءتِ عشرہ (دس قراءات) کی سند حاصل کرکے اپنی علمی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل عبور کیا۔

یہ دونوں بہنیں اس وقت بھی پی ایچ ڈی کی سطح پر اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ نظری علم کو عملی خدمت کے ساتھ جوڑنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

"ننھے حفاظ" اکیڈمی

جامعاتی تعلیم اور تدریسی تجربے کے بعد ان بہنوں نے اسلامی کمیونٹی آف کوسوو کی نگرانی میں پریشتینا میں "حافظانِ کوچک" اکیڈمی قائم کی۔ یہ ادارہ بچوں کو قرآنِ کریم کی درست قراءت اور حفظ کی تعلیم دینے کے لیے ایک خصوصی تعلیمی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں عمر اور انفرادی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نصاب ترتیب دیا گیا ہے۔

اکیڈمی نے بڑی تعداد میں بچوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے اور ان کی ضروریات کے مطابق انفرادی رہنمائی اور متنوع تعلیمی پروگرام فراہم کیے ہیں، جس سے بچوں کا قرآنِ کریم سے تعلق مضبوط ہوا اور ان کی ہمہ جہت تربیت ممکن ہوئی۔

قرآن کے ساتھ عملی زندگی کی تربیت

ان دو بہنوں کے منصوبے کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان کی سرگرمیاں صرف حفظ اور تلاوت تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ قرآنِ کریم کی تعلیمات کو روزمرہ زندگی اور عملی اقدار سے جوڑنے پر زور دیتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے بچوں میں سچائی، امانت داری، والدین کی اطاعت، تعاون اور ذمہ داری جیسے اخلاقی اوصاف پیدا کیے جاتے ہیں۔

ان کی خدمات صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے قرآنی تعلیم کو سماجی خدمت اور عملی معاشرتی سرگرمیوں سے بھی جوڑ دیا ہے۔

یہ اقدام کوسوو میں مسلمان خواتین کے لیے ایک کامیاب نمونہ بن چکا ہے، جہاں اعلیٰ جامعاتی تعلیم، اسلامی علوم، تدریسی خدمات اور سماجی سرگرمیوں کو یکجا کیا گیا ہے اور قرآنی علم کو نئی نسلوں کی خدمت کے ایک عملی منصوبے میں تبدیل کیا گیا ہے۔

اسی کامیابی کی بدولت "حافظانِ کوچک" اکیڈمی آج اس بات کی روشن مثال بن چکی ہے کہ اسلامی تعلیمی اقدامات کس طرح ایسی نسل تیار کرسکتے ہیں جو حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاق، احساسِ وابستگی اور سماجی ذمہ داریوں سے بھی آراستہ ہو۔/

 

4355215

نظرات بینندگان
captcha