آمازیغی زبان میں قرآنی مترجم دار فانی سے رخصت

IQNA

آمازیغی زبان میں قرآنی مترجم دار فانی سے رخصت

7:33 - June 01, 2026
خبر کا کوڈ: 3520277
الجزائر کے ممتاز محقق، مفسرِ قرآن اور قرآنِ کریم کے آمازیغی زبان میں پہلے مترجم، سی حاج محند طیب گزشتہ روز 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

ایکنا نیوز- الشروق نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شیخ سی حاج محند طیب 29 مئی کو الجزائر کے صوبے تیزی وزو میں وفات پا گئے۔ ان کے انتقال پر الجزائر کے وزیرِ مذہبی امور و اوقاف یوسف بلمہدی نے تعزیتی پیغام میں کہا کہ الجزائر نے اپنی ایک عظیم علمی اور دینی شخصیت کو کھو دیا ہے، جس نے پوری زندگی دینِ اسلام اور علم کی خدمت میں صرف کی۔

وزیرِ مذہبی امور نے مرحوم عالم کو ایک ایسے امام، مربی اور معلم کے طور پر خراجِ عقیدت پیش کیا جس نے اپنی زندگی قرآنِ کریم کی تعلیم، ہدایت اور اس کے معانی کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ شیخ سی حاج محند طیب کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ انہوں نے پورے قرآنِ کریم کا آمازیغی زبان میں ترجمہ کیا۔

یہ عظیم عالم قرآنِ کریم کو آمازیغی زبان میں منتقل کرنے والے پہلے شخص تھے۔ ان کے ترجمے کی توثیق مجمع ملک فہد برائے طباعتِ قرآن کریم نے بھی کی تھی۔ مزید برآں، ان کی قرآنی خدمات اور آمازیغی زبان میں ترجمۂ قرآن کے اعتراف میں سعودی عرب نے انہیں خصوصی اعزاز سے نوازا تھا۔

شیخ طیب نے سات سال کی مسلسل اور خاموش علمی محنت کے بعد قرآنِ کریم کے اس عظیم ترجمے کو مکمل کیا اور اسے عربی رسم الخط میں پیش کیا، جو ان کی علمی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔

درگذشت نخستین مترجم قرآن به زبان آمازیغی

 

مرحوم 1934ء میں الجزائر کے شہر ایفرحونن میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں قرآنِ کریم حفظ کرنے کے لیے روایتی قرآنی مدارس (زاویہ) میں داخل ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے الجزائر کی آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اور فرانسیسی استعمار کے خلاف جدوجہد کے دوران 1958ء میں قید کی سزا بھی کاٹی۔ تاہم قید و بند کے حالات بھی انہیں قرآن فہمی اور دینی تعلیم کے راستے سے نہ ہٹا سکے۔

آزادی کے بعد انہوں نے جامعہ میں عربی ادب کی تعلیم حاصل کی اور 1966ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ بعد ازاں 1985ء میں انہیں فرانس میں مسلم اقلیتوں کے امور کے انسپکٹر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا، جہاں وہ چار برس تک خدمات انجام دیتے رہے۔

آمازیغی زبان افریقی-ایشیائی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور افریقہ کے مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہے، تاہم اس کے زیادہ تر بولنے والے الجزائر میں آباد ہیں۔

شیخ سی حاج محند طیب کی وفات نہ صرف الجزائر بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک بڑا علمی نقصان ہے۔ ان کی قرآنی خدمات، خصوصاً آمازیغی زبان میں ترجمۂ قرآن، آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی علمی ورثہ رہیں گی۔/

 

4355221

نظرات بینندگان
captcha