ایکنا نیوز- صدی البلد نیوز کے مطابق شیخ سید سعید، جو ’’سلطان القراء‘‘ کے لقب سے معروف تھے، مصر اور عالمِ اسلام میں تلاوتِ قرآن اور فنِ لحن کے نمایاں ترین چہروں میں شمار ہوتے تھے۔
شیخ سید سعید 7 مارچ 1943ء کو مصر کے صوبہ دقہلیہ کے ضلع جمالیہ کے گاؤں ’’میت مرجا سلسیل‘‘ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک غریب گھرانے میں پروان چڑھے جس میں نو بچے تھے، اور وہ اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ بچپن ہی سے ان کی آواز میں غیر معمولی کشش اور صلاحیت نمایاں تھی۔
انہوں نے نو سال کی عمر میں قرآنِ کریم حفظ کر لیا۔ ان کی قرآنی زندگی کا آغاز گاؤں کے مکتب میں شیخ عبدالمحمود عثمان کی سرپرستی میں ہوا۔ تلاوت میں ان کی بے پناہ صلاحیت کی وجہ سے ان کی شہرت جلد ہی پورے علاقے میں پھیل گئی اور بعد ازاں وہ دنیا کے مختلف ممالک میں قرآنِ کریم کی تلاوت کے لیے مدعو کیے جانے لگے۔
غربت کے باعث شیخ سید سعید نے کم عمری میں ہی اسکول چھوڑ دیا، لیکن اپنی دلنشین آواز اور صرف سماعت کے ذریعے مختلف مقاماتِ صوتی پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت کے سبب انہوں نے تلاوتِ قرآن کے میدان میں اپنا منفرد مقام بنا لیا۔ ان کی شخصیت اور فن نے لوگوں کو مسحور کر دیا اور ایک ممتاز قاریِ قرآن کے طور پر ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔
شیخ سید سعید بغیر کسی معاوضے کے قرآنِ کریم کی تلاوت کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا: میں قرآن سے محبت کی وجہ سے اس کی تلاوت کرتا ہوں، نہ کہ مال و دولت کے لیے۔ اللہ کی آیات خریدی نہیں جا سکتیں۔
اس عظیم مصری قاری نے متحدہ عرب امارات، عراق، لبنان، جنوبی افریقہ، ایران، آذربائیجان اور سوئٹزرلینڈ سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں قرآنِ کریم کی تلاوت کی۔
انہوں نے مصر کے عظیم قراء، جن میں محمد صدیق منشاوی، مصطفی اسماعیل، عبدالفتاح الشعشاعی، محمود علی البنا اور ابوالعینین شعيشع شامل ہیں، کے ساتھ مختلف محافل میں تلاوت کی اور یوں قراءتِ قرآن کے میدان میں بلند مقام حاصل کیا۔
شیخ سید سعید نے دنیا کے مختلف خطوں کا سفر کیا اور بین الاقوامی قرآنی محافل میں قرآنِ کریم کا پیغام عام کیا۔ وہ خاص طور پر سورۂ یوسفؑ کی اپنی منفرد تلاوت کے انداز کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے، جو بعد ازاں فنِ تلاوت میں ایک ممتاز مکتبِ فکر کی حیثیت اختیار کر گیا۔
ان کی غیر معمولی ادائیگی، بالخصوص سورۂ یوسفؑ کی پُرسوز اور دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی تلاوت نے انہیں ’’سلطان القراء‘‘ کا لقب دلایا۔ بہت سے ماہرین اور سامعین اس تلاوت کو ان کی بہترین ریکارڈ شدہ قراءت قرار دیتے ہیں۔ 1990ء کی دہائی کے وسط میں ان کی آواز مصر بھر میں مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئی۔ ان کی تلاوت پر مشتمل آڈیو کیسٹوں کی فروخت ریکارڈ سطح تک جا پہنچی، یہاں تک کہ ان کی آواز گھروں، دکانوں اور عوامی نقل و حمل کے ذرائع میں ہر جگہ سنائی دیتی تھی۔
بہت سے لوگوں کے نزدیک سورۂ یوسفؑ کی یہی ریکارڈ شدہ تلاوت ان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی، جس نے انہیں عالمی شہرت بخشی اور ’’سلطان القراء‘‘ کا لازوال لقب عطا کیا۔
شیخ سید سعید نے مصر کی قراء و حفاظ یونین میں بھی نمایاں کردار ادا کیا اور قرآنی خدمات کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
طویل علالت کے بعد شیخ سید سعید 24 مئی 2025ء (3 خرداد 1404ھ ش) کو 82 برس کی عمر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات سے عالمِ اسلام ایک عظیم قاریِ قرآن سے محروم ہو گیا، تاہم ان کی تلاوتیں اور قرآنی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔/
4354330