
ایکنا نیوز- نبأ نیوز کے مطابق ریاض اور کویت نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی جانب سے شیعہ علما کے خلاف کیے گئے یکطرفہ اقدامات کی فوری اور مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ ان اقدامات کو خلیجی عرب ممالک کی حکمران حکومتوں کے درمیان اپنی عوام کو دبانے کے لیے موجود اتحاد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آل خلیفہ کی سکیورٹی فورسز وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کی مہم چلا رہی ہیں، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے مشترکہ کریک ڈاؤن کا ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہے۔
دوسری جانب سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی فوری طور پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے بحرین کے اقدامات کی تائید کی اور ان گرفتاریوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ سعودی حکومت نے آل خلیفہ حکومت کے اقدامات کو قومی سلامتی کے تحفظ کے نام پر جائز قرار دینے کی کوشش کی۔
ریاض نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو قانونی جواز فراہم کرنے اور دانشوروں و مذہبی شخصیات کے خلاف کارروائیوں کو نام نہاد “سلامتی مخالف سرگرمیوں” کے سدباب کے لیے ضروری قرار دینے کی کوشش کی۔ یہ وہی اصطلاح ہے جسے سعودی حکومت طویل عرصے سے اپنے ملک میں مخالفین اور علما کے خلاف کریک ڈاؤن کے جواز کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔
سعودی بیان میں بحرینی سکیورٹی فورسز کی تعریف بھی کی گئی، جو اس وقت علما کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
اسی تناظر میں کویت نے بھی آل خلیفہ حکومت کی حمایت کا اعلان کیا۔ کویتی وزیرِ داخلہ فہد الصباح نے بحرینی ہم منصب راشد آل خلیفہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں ان اقدامات کے لیے اپنے ملک کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کویت کا یہ مؤقف اس کے حکمرانوں کے لیے ایک نئی سیاسی و اخلاقی گراوٹ کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
خلیجی ممالک کا بحرینی حکومت کے اقدامات کے حق میں یکجا ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطہ ایک ایسے سکیورٹی نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے جو مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق کو نظر انداز کرتا ہے، جبکہ جائز عوامی مطالبات اور مذہبی شخصیات کو ایک وجودی خطرہ سمجھ کر مشترکہ طور پر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔/
4351504