
ایکنا نیوز- امام رضاؑ حوزوی کمپلیکس کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق آیت اللہ رشاد نے یکم ذی الحجہ کو امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ اور حضرت فاطمہ زہراؑ کی سالگرۂ ازدواج کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو صرف ایک تاریخی یا خاندانی واقعہ نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک ایسا عظیم واقعہ ہے جو متنِ ہستی میں وقوع پذیر ہوا اور جس کی “وجودی جہت” ہے، لہٰذا اسے نظامِ آفرینش کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔
صوبہ تہران کی حوزہ ہائے علمیہ کونسل کے سربراہ نے اس مبارک ازدواج کی بے شمار برکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سب سے اہم برکت “دین اور شریعت کا تحفظ” ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخِ تشیع بلکہ اہل سنت بھی اس نسل کے احسان مند ہیں جو اس مبارک رشتے سے وجود میں آئی، کیونکہ دین کی حفاظت کرنے والوں کی اکثریت سادات میں سے تھی اور ان کا نسب رسولِ اکرم ﷺ سے جا ملتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قرآنِ کریم کے اولین مفسرین، عظیم فقہا اور محدثین اسی پاک نسل سے ظاہر ہوئے اور جو علم و معرفت انسانیت تک پہنچی، وہ اسی خاندان اور ان کے شاگردوں کے ذریعے بعد کی نسلوں تک منتقل ہوئی۔
آیت اللہ رشاد نے “حکمت کی دو شاخوں” کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ نے “کتاب” اور “حکمت” دونوں کو امت میں چھوڑا۔ ایک شاخ حکمتِ نبوی ہے اور دوسری حکمتِ الٰہی، جو حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ اور ان کی اولاد کے ذریعے تاریخ کے مختلف ادوار میں انسانیت تک منتقل ہوئی۔
امام رضاؑ حوزوی کمپلیکس کے متولی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کا ازدواجی واقعہ ایک معمول کا خاندانی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک وجودی اور تاریخی عہد ہے جس کے اثرات پوری انسانی تاریخ پر مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مبارک ازدواج کا ثمر “کوثر” یعنی خیرِ کثیر ہے، اور یہی کوثر انسانیت کو تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنے گا۔/
4352866