
ایکنا نیوز- خبر رساں ادارے آناطولیہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی وزارتِ اوقاف نے الخلیل، جو مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوب میں واقع ہے، میں موجود مسجد ابراہیمی کی دیواروں کو اسرائیلی پرچم کے رنگوں اور عبرانی عبارتوں سے روشن کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کے مقدسات پر واضح حملہ قرار دیا۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام اسلامی مقدسات اور مسلمانوں کے جذبات پر کھلی جارحیت کی عکاسی کرتا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ مسجد ابراہیمی مکمل طور پر ایک اسلامی عبادت گاہ ہے جس میں غیر مسلموں کا کوئی حق نہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مسجد کے اندر اسرائیلی اقدامات باطل اور غیر قانونی ہیں، اور یہ ایک خطرناک کوشش ہے جس کا مقصد اس مسجد کی تاریخی شناخت کو تبدیل کرنا اور طاقت کے زور پر ایک نئی یہودی حقیقت مسلط کرنا ہے۔
فلسطینی وزارتِ اوقاف نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلامی مقدسات کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔ ساتھ ہی فلسطینی عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ مسجد ابراہیمی میں اپنی موجودگی کو یقینی بنا کر اس کی اسلامی اور عرب شناخت کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔
انسانی حقوق کے کارکن عارف جابر نے اس سے قبل آناتولی کو بتایا تھا کہ یہودی آبادکاروں نے مسجد ابراہیمی کے اطراف میں ایک جشن منایا، مسجد کی دیواروں کو سنہ 1967 میں الخلیل پر قبضے کی سالگرہ کے موقع پر نیلی روشنیوں سے سجایا، اور بلند آواز میں موسیقی چلائی جس کی آواز مسجد کے صحن میں گونجتی رہی۔
فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکام نے صرف اپریل کے مہینے میں 91 مرتبہ مسجد ابراہیمی میں اذان دینے سے روکا۔/
4353500