غزہ؛ قرآنی مدرسہ «نور»؛ امید برائے حیات نو

IQNA

غزہ؛ قرآنی مدرسہ «نور»؛ امید برائے حیات نو

9:30 - May 26, 2026
خبر کا کوڈ: 3520256
ایکنا: غزہ کی پٹی میں جنگ کی تباہ کاریوں کے درمیان خان یونس میں قائم قرآنی مدرسہ ’’النور‘‘ قرآنِ کریم کے ذریعے روحانی اور معنوی تعمیرِ نو کے ایک منصوبے کے تحت زندگی کی نئی امید جگانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایکنا نیوز- فلسطین آن لائن نیوز کے مطابق خان یونس کی ایک جزوی طور پر تباہ شدہ مسجد میں قائم اس مدرسے کے ایک گوشے میں کمسن بچیاں ہاتھوں میں قرآنِ کریم لیے بیٹھی ہیں اور جنگ کے شور اور اس کے المناک نقصانات کے درمیان دھیمی آواز میں آیاتِ قرآنی کی تلاوت کر رہی ہیں۔

ان میں سے بہت سی بچیاں اپنے گھر اور عزیز و اقارب کھو چکی ہیں، لیکن حفظِ قرآن کی ان محفلوں میں انہیں ایک ایسا پناہ گاہ میسر آیا ہے جو ان کے کھوئے ہوئے سکون کا کچھ حصہ واپس لوٹا رہا ہے۔

مدرسے کی طالبہ اور رکن ہدیٰ الفرا کہتی ہیں کہ جنگ نے ان کا وہ گھر تباہ کر دیا جس کی تعمیر میں برسوں لگے تھے، اور ان کی زندگی مکمل طور پر بکھر گئی۔ وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہتی ہیں: ’’ہم خیموں میں دربدر تھے، لیکن جنگ ہماری روح کو شکست نہ دے سکی، اس لیے ہم نے قرآن کا سہارا لیا تاکہ دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں اور ان سخت حالات میں نئی سانس لے سکیں۔

التیام جسم و جان در مدرسه قرآن خان‌یونس 

 

انہوں نے کہا کہ جب طلبہ نے شہادت، بے گھری اور اپنے پیاروں کو کھونے کے مناظر دیکھے تو یہ قرآنی مدرسہ حفظِ قرآن اور دینی معارف کے حصول کے لیے ایک روحانی مرکز بن گیا۔ ان کے مطابق کتابِ خدا سے وابستگی نے انہیں صبر و استقامت عطا کی ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’’ہم نے قرآن میں وہ سہارا پایا جسے تھام کر ہم دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ سکتے ہیں اور تمام مشکلات کے باوجود جینے کا حوصلہ حاصل کر سکتے ہیں۔

التیام جسم و جان در مدرسه قرآن خان‌یونس

 

مرکز حفظ و علومِ قرآن ’’النور‘‘ کے نگران رامی الشقرہ کا کہنا ہے کہ اس مدرسے کا قیام غزہ پر صہیونی جنگ کے اثرات سے بحالی کی کوششوں کے تحت عمل میں آیا، جس کا مقصد نفسیاتی اور تعلیمی اعتبار سے فلسطینی شخصیت کی تعمیرِ نو ہے۔

الشقرہ نے وضاحت کی کہ یہ مدرسہ قرآنِ کریم اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو جنگ کے نفسیاتی اور سماجی اثرات پر قابو پانے میں مدد دینے کے لیے ان کھنڈرات پر قائم کیا گیا جو قابض افواج نے چھوڑے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس مرکز میں اس وقت تقریباً 800 طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جن میں کمسن بچوں سے لے کر ساٹھ سال سے زائد عمر کے بزرگ افراد تک شامل ہیں، اور ہر عمر کے افراد کے لیے ان کی ضروریات کے مطابق خصوصی پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں۔

رامی الشقرہ کے مطابق یہ مدرسہ صرف حفظِ قرآن تک محدود نہیں بلکہ اس میں نفسیاتی معاونت اور جذباتی بحالی کے پروگرام بھی شامل ہیں، جن کی نگرانی ماہر مشیران اور نفسیات دان کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس مدرسے میں 60 سے زائد اساتذہ اور حفاظِ قرآن خدمات انجام دے رہے ہیں، اور یہ سب ایک جامع تعلیمی منصوبے کا حصہ ہے جو جنگی جارحیت کے خاتمے کے بعد تیار کیا گیا۔/

 

4353984

ٹیگس: مدرسہ ، قرآنی ، غزہ
نظرات بینندگان
captcha